منگولیا(نیوز ڈیسک)چین کے صوبے منگولیا کا ضلع اورڈوس ایک زمانے میں محض چھوٹا سا قصبہ تھا۔ 2003 میں یہاں کوئلے اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔ یہ ذخائر وسعت کے لحاظ سے چین کے چھٹے بڑے ذخائر تھے۔کوئلے، گیس کی دریافت کے بعد قصبے کی قسمت بدلنے لگی۔ یہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے اس علاقے کا رخ کرلیا اور مقامی لوگوں کی قسمت کھل گئی۔ حکومت کو اندازہ تھا کہ چند ہی برس میں یہ علاقہ اور اورڈوس کی ترقی کا مرکز بن جائے گا۔ یہاں دوسرے علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ روز کے سلسلے میں آئیں گے۔اس لیے حکومت نے کوئلے اور گیس کی دولت سے مالا مال ضلع کے ساتھ ایک جدید شہر بسانے کا فیصلہ کیا۔ دو ہی برس میں کانگا باشی کے نام سے ایک چھوٹا مگر جدید شہر تعمیر وجود میں ا?گیا اور اسے ضلع کا درجہ بھی دے دیاگیا۔ کانگا باشی میں بلند و بالا عمارات اور کشادہ سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ گیس و بجلی اور پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تعلیمی ادارے اور اسپتال تعمیر کیے گئے۔غرض ہر لحاظ سے کانگاباشی کو تمام سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ حکومت نے دس لاکھ لوگوں کے لیے یہ شہر تعمیر کیا تھا مگر حیران کْن طور پر یہاں رہائش اختیار کرنے والوں کی تعداد چند سو بھی نہیں! کئی برس گزر جانے کے باوجود شہر کی عمارتیں اور مکانات خالی پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سنسان شہر کسی ’’گھوسٹ سٹی‘‘ کا منظر پیش کرتا ہے جہاں سب کچھ موجود ہے بس مکین نہیں ہیں۔فی کس آمدنی کے لحاظ سے اورڈوس، شنگھائی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس لیے حکومت کو یقین تھا کہ نیا شہر بسانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ یہاں کے دولت مند لوگ نئے شہر میں رہائش گاہیں خریدنے میں تامل سے کام نہیں لیں گے۔ اس حد تک حکومت کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ کانگا باشی میں حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ تمام اپارٹمنٹس اور مکانات فروخت ہوگئے مگر آباد نہیں ہوسکے۔خریداروں نے یہاں رہائش پذیر ہونا گوارا نہیں کیا جو حیران کن ہے۔ نئے شہر میں رہائش خریدنے والے بیشتر افراد کا تعلق اور ڈوس کی پرانی آبادی ہی سے ہے۔ وہاں پانی کی قلت ہے جب کہ کانگا باشی میں فراہمی آب کا معقول انتظام ہے۔مکانات خریدنے کے باوجود خود یہاں منتقل نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ کانگاباشی، اورڈوس سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پرتعمیر کیا گیا ہے، اورڈوس کی آبادی کان کنی اور اس سے جڑے پیشوں سے وابستہ ہے۔کوئلے کی کانیں اور ڈوس میں ہیں۔ اگر وہ کانگا باشی منتقل ہوتے ہیں تو انھیں روزانہ آنے جانے میں50کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ شاید اسی لیے وہ نئے شہر میں منتقل ہونے سے گریزاں ہیں۔ حکومت کانگا باشی کو آباد کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے مگر اس کے تمام اقدامات ابھی تک مالکان کو نئے گھروں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرسکے ہیں اور شہر اسی طرح سائیں سائیں کر رہا ہے۔
چین کا جدید ’’بْھوت شہر‘‘؛ جہاں کی عمارتیں شان دار مگر مکین ندارد
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بدھ کو عام تعطیل کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
مبینہ پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ٹک ٹاکر ہلاک
-
رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان
-
فیفا صدر کا ارجنٹینا فٹبال فیڈریشن کو بھیجا گیا خط لیک ہوگیا
-
سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاری
-
انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہو سکتی ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
-
ہمارا امیرالعظیم
-
طبی ماہرین نے سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے میں مددگار آسان طریقہ دریافت کرلیا
-
محکمہ موسمیات کی ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
-
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم
-
آئی فون 18 کی ریلیز سے متعلق ایپل کا بڑا فیصلہ!
-
قائدِاعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت



















































