اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی وردی میں ملبوس مسلح نوجوانوں کی ایک ویڈیو سے سنسنی پھیل گئی ہے۔سوشل میڈیا پر پیر کی شام پوسٹ کی گئی پونے دو منٹ کی اس ویڈیو میں جدید ہتھیاروں سے لیس 11 مسلح کشمیری نوجوان موجود ہیں، جو فوجی سلیقے سے وردیاں پہنے ہیں اور ایک دوسرے سے کشمیری میں باتیں کر رہے ہیں۔ان کی گفتگو قابل سماعت تو ہے لیکن جملے واضح نہیں ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر پولیس کا سائبر سیل اس ویڈیو کا جائزہ لے رہا ہے۔ چند روز قبل ان ہی نوجوانوں کی ایک گروپ فوٹو بھی فیس بک اور ٹوئٹر پر شائع کی گئی تھی۔مسلح شدت پسندوں کی جانب سے اس قسم کی ذاتی تشہیر ماضی میں صرف 1990 میں کی گئی تھی جب کشمیر پر مسلح گروپوں کا غلبہ تھا۔تازہ ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوانوں میں سے بعض نے جدیدگھڑیاں پہنی ہوئی ہیں جبکہ ان کے ہاتھوں میں سمارٹ فون بھی ہیں تاہم ان کا اسلحہ پرانا معلوم ہوتا ہے۔حالانکہ پولیس اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ رہی تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سبھی نوجوان حالیہ برسوں کے دوران مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شامل ہوئے ہیں۔تاہم حزب المجاہدین نے ابھی تک اس بارے میں وضاحت نہیں کی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ان میں ایک سابق پولیس اہلکار نصیر بھی ہے، جو موجودہ وزیر الطاف بخاری کا ذاتی محافظ تھا اور پولیس کی دو رائفلیں چوری کر کے شدت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا۔ویڈیو میں ان افراد کی قیام گاہ کا کوئی اندازہ نہِیں ہوتا ، کیونکہ پس منظر میں صرف ہریالی اور کچھ درخت ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جگہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ یا شوپیاں اضلاع میں کہیں پر ہے۔ان دونوں اضلاع میں گذشتہ پانچ سال میں مسلح تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور یہیں سے اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مسلح مزاحمت میں شامل ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوا تھا۔ایک اعلی پولیس افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: انھوں نے اپنا کام کیا ہے۔ اب ہم اپنا کام کریں گے لیکن یہ سچ ہے کہ یکم جولائی سے جاری امرناتھ یاترا سے متعلق سلامتی صورتحال پر اب زیادہ کڑی نظر رکھی جائے گی۔واضح رہے 31 جولائی1989 کو جب کشمیر کے مسلح کمانڈر محمد یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں نے سرینگر میں مسلح فلیگ مارچ کیا اور بھارتی فورسز پر فائرنگ کی تو کشمیر میں مسلح تشدد کا دور شروع ہوا تھا۔آنے والے چند برسوں میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں کے بعد مسلح شدت پسند روپوش ہوگئے اور پھر پانچ سال بعد یاسین ملک نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر کے پرامن سیاسی مزاحمت کا راستہ اپنا لیا۔اب وہ کشمیر کی مزاحمتی سیاست کی اہم آواز ہیں۔ ان کا کہنا ہے: 2010 میں جب کشمیریوں نے سڑکوں پر جلوس نکالے تو وہ مسلح مزاحمت سے غیر مسلح مزاحمت اپنانے کا اعلان تھا۔ لیکن ملا کیا؟ 120 لاشیں۔ جب بھارت پرامن ذرائع سے سیاسی خواہشات کے اظہار کا راستہ بند کرے گا، ظاہر ہے لوگ متبادل راستے تلاش کریں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)
-
ورک ویزا کے ساتھ روانہ ہو نے والے 23 افراد آف لوڈ
-
مٹی کے طوفان کا الرٹ جاری کردیا گیا
-
اٹلی کے اسٹڈی ویزے کے لئے کتنا بینک اسٹیٹمنٹ ہونا چاہیے؟ خواہشمند طلبا کے لیے بڑی خبر
-
دوست کے گھر سے نیم برہنہ حالت میں ٹھیکیدار کے 26 سالہ بیٹے کی نعش برآمد
-
پاکستان میں عید الاضحی کب ہو گی؟ رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پیشگوئی کردی
-
پاکستان میں1سے 3سال کے 10میں سے 4بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کا انکشاف
-
لاہور،نوکری کا جھانسہ دے کر نجی کمپنی کے مالک کی ساتھی کیساتھ ملکر خاتون سے زیادتی
-
بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی
-
سہیل آفریدی کی چھٹی؟ رانا ثناء اللہ کااہم بیان آگیا
-
دنیا بھر کے پاکستانی سفارتخانوں میں پاسپورٹ سروسز معطل
-
پٹرول پمپ کے قریب رہنے والے بچوں میں کینسر کا خطرہ: تحقیق میں انکشاف
-
گلگت بلتستان اور پختونخوا میں گلیشیئر پھٹنے، شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، الرٹ جاری
-
سعودی عرب کا حج عازمین کے لیے عمر کی پابندی فوری طور پر نافذ کرنے کا اعلان



















































