جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

شام، شامی فوجی داعش کو اسلحہ فروخت کرتے پکڑے گئے

datetime 10  جولائی  2015 |

اسلا م آباد(نیوز ڈیسک)شام کی ملٹری انٹیلی جنس نے فوج اور ملٹری پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کے ایک گروپ کو حراست میں لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر شدت پسند گروپ دولت اسلامی کے جنگجوﺅں کو فوجی گاڑیوں میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرتے رہے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملٹری انٹیلی جنس نے حماگورنری، حمص اور تدمر شہروں میں ایسی کئی فوجی گاڑیاں پکڑی ہیں جن میں فوجی سازو سامان اور دھماکا خیز مواد لادا گیا تھا اور اسے مبینہ طور پر”داعش” کے جنگجوﺅں کو پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق دشمن گروپ کو خفیہ طور پر دھماکہ خیز مواد سپلائی کرنے کے لیے فوجی گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ گاڑیوں پر لادے گئے اسلحہ کو ایسی ترپالوں کی مدد سے ڈھانپا گیا تھا جنہیں عموما شامی فوجی استعمال کرتے ہیں۔مبصرین کے خیال میں شامی فوج کی جانب سے “داعش” جیسے انتہا پسند گروپوں کو دھماکہ خیز مواد کے ٹرک فروخت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرون خانہ فوج اور داعش کے درمیان تعلقات پائے جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی انٹیلی جنس اہلکاروں نے پہلے حمص میں اپنے فوجیوں کو داعش کواور گولہ بارود فروخت کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جس کے بعد ملک کے دوسرے شہروں میں کارروائی کی گئی تو تدمر کے دیہی علاقوں اور حما? گورنری میں بھی ملٹری پولیس کو اس دھندے میں ملوث پایا گیا۔ تحقیقات کرنے پرپتا چلا کہ داعش کو اسلحہ کے ٹرک بھر کر فروخت کرنے والوں میں شام کی ملٹری پولیس اور نیشنل ڈیفنس فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ “داعش” کو بارود مہیا کرنے والوں میں شامی فوج کے کسی ایک ادارے کے افسر اور اہلکار ملوث نہیں ہیں بلکہ اس میں بیشتر سیکیورٹی اداروں کے بڑے بڑے عہدیدار ملوث ہیں۔ ان میں نیشنل ڈیفنس فورس، ری پبلیکن گارڈز، پولیٹیکل سیکیورٹی پولیس جیسے ادارے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اس سارے اسکینڈل سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ شامی فوج اپنے ملک میں دہشت گردی کے لیے دشمن کی خود ہی مدد کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…