پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بر قرار

datetime 28  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )ایران کی سول ڈیفنس آرگنائزیشن کے چیئرمین کرنل غلام رضا جلالی نے کہا ہے کہ ایران کے سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی کے پانچ اہم محرکات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے ساتھ عقائد، سیکیورٹی، اقتصادیات، سائبر اور فوج کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات ہیں اور یہی اختلافات دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا اہم محرک ہیں۔ غےر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسٹر جلالی نے عقائد کے اختلافات کے بعد دوسرا اہم اختلاف سیکیورٹی امور بتایا جب کہ تیسرا اختلاف معیشت کے شعبے کو قرار دیا اور کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازع اور کشیدگی کو بڑھانے کا موجب بنی ہے۔چوتھے اختلافی محور کا ذکر کرتے ہوئے رضا جلالی نے کہا ہے کہ سائبر کی دنیا میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ہے۔ یہ چوتھا تنازع ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ سعودی عرب شمال مغربی ایرانی شہر مہا آباد میں کچھ عرصہ قبل کردوں کے حکومت مخالف مظاہرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہ مظاہرے ایک کرد خاتون کے سیکیورٹی اہلکار کی مبینہ عصمت ریزی کی کوشش سے فرار کے دوران ہونے والی ہلاکت کے رد عمل میں نکالے گئے تھے۔ایرانی عہدیدار نے سعودی عرب کے ساتھ اختلافات کا پانچواں محور “فوج” کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا اسلحہ ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ رضا جلالی کا کہنا تھا کہ ہمیں نئے انداز میں سعودی عرب کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔خیال رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی چند سال قبل اس وقت پیدا ہوئی تھی جب تہران نے شام میں جاری عوامی انقلاب کی تحریک کو بغاوت قرار دے کر صدر بشارالاسد کی ظالمانہ حکومت کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد دو طرفہ کشیدگی میں پچھلے سال اس وقت اور اضافہ ہوا جب ایران نے یمن میں حوثی باغیوں کو سپورٹ کیا اور انہوں نے ملک کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ سعودی عرب کو شکوہ ہے کہ ایران عرب ممالک میں سرگرم اپنے ہمنوا گروپوں کو اسلحہ اور رقوم فراہم کرتا ہے جو مبینہ طور پر ان ملکوں میں جنگ کو طول دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کےحوالے سے یہ بیان پہلی بار سامنے نہیں آیا بلکہ حال ہی میں ایرانی گارڈین کونسل کے سیکرٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق چیف محسن رضائی نے بھی کہا تھا کہ تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی حقیقت ہے اور اس یہ عرب۔ ایران جنگ کا موجب بن سکتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…