تیونسیا(نیوزڈیسک) تیونس کی حکومت نے سیاحتی مقام پر دہشت گردی کے حملے کے بعد سخت کارروائی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں انتشار پھیلانے کا باعث بننے والی 80 مساجد کو ایک ہفتے میں بند کردیا جائے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کے وزیر اعظم حبیب الصید نے اعلان کیا کہ ایسی 80 مساجد کو بند کردیا جائے گا جو دہشت گردی پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو مساجد ملک میں انتشار پھیلا رہی ہیں انہیں ایک ہفتے میں بند کردیا جائے گا جب کہ سیاحتی مراکز اور تاریخی عمارتوں پر سیکورٹی سخت کرتے ہوئے فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز سیاحتی مرکز سوسے میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں اکثریت برطانوی شہری ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 8 برطانوی، ایک بیلجیم اور ایک جرمن باشندے کی نشاندہی ہوسکی ہے ۔
تیونس , دہشتگردانہ حملے کے بعد مساجد کیخلاف بڑا اقدام
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































