منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

نیپالی سپریم کورٹ کا جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو عام معافی نہ دینے کا اعلان

datetime 1  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیپال کی سپریم کورٹ نے ملک میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو عام معافی نہ دےنے کا اعلان کردےا۔غےر ملکی مےڈےا کے مطابق نیپال کی سپریم کورٹ کے ایک اہلکار بابو رام داھل نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے قانون میں موجود عام معافی کے امکان کو ختم کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی مصالحت کے لیے متاثرین کی رضامندی ضروری ہے۔ دوسری طرف نیپالی حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی۔ حکومتی فورسز اور ماو نواز باغیوں دونوں پر خانہ جنگی کے دوران غیر قانونی ہلاکتوں، لوگوں کو حراست میں لینے اور لاپتہ کرنے کے علاوہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کرنے کے الزامات عائد ہیں۔نیپال میں کئی برسوں سے یہ کوشش ہو رہی تھی کہ ماو نوازوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری رہنے والے تنازعے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو کس طرح انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ 2006ء میں ختم ہونے والی خانہ جنگی کے دوران سترہ ہزار افراد ہلاک جبکہ دیگر تیرہ سو لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔ گزشتہ برس ملکی پارلیمان کی جانب سے مصالحتی کمیشنز کے قیام کے لیے ایک قانون بنایا گیا تھا۔ ان کمیشنز کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو عام معافی دے سکتے تھے تاہم اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جنگی جرائم کے مبینہ افراد کو تحفظ دینے کا بہانہ قرار دیا گیا۔ ایسے افراد میں سے بعض اب بھی فوج اور سیاسی جماعتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ تین ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر جنگی متاثرین اور ان کے خاندان کے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ فیصلہ 200 متاثرین کی طرف سے جمع کرائی گئی ایک درخواست پر سنایا گیا جس میں مصالحتی کمیشنز کو دیے گئے اختیارات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ متاثرین کے وکیل دنیش تریپاٹھی نے اس فیصلے کو ایک تاریخی عدالتی فیصلہ قرار دیاکہ یہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو چاہتے تھے کہ کمیشن ان کی سہولت کے حساب سے کام کریں۔ تنازعے کے دوران متاثر ہونے والوں نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ 2006ء میں حکومت اور باغیوں کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش جنگ بندی کے چھ ماہ کے اندر اندر کرائی جائے گی۔ تاہم مختلف حکومتوں کی طرف سے اس بارے میں کئی گئی کوششیں سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کامیاب نہ ہو پائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…