بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

وہ درخت جس پر پھل نہیں بلکہ ’’پیسے‘‘ اُگتے ہیں؟

datetime 23  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )بھارت میں ایک عجیب و دلچسپ درخت موجود ہے جو عام درختوں کی طرح پھل یا پھول نہیں بلکہ سکوں سے ڈھکا ہوا نظر آتا ہے۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ “پیسے درختوں پر نہیں لگتے”، مگر بہار ریاست میں واقع یہ درخت اس کہاوت کے برعکس ایک انوکھا منظر پیش کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسے “منی ٹری” بھی کہتے ہیں۔حقیقت میں اس درخت پر سکے خود نہیں اگتے بلکہ عقیدت مند افراد اپنی خواہشات اور دعاؤں کی قبولیت کی امید میں اس کے تنے پر سکے چپکا دیتے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ روایت صدیوں پرانی ہے اور اب درخت کی چھال پر اتنے سکے لگ چکے ہیں کہ مزید جگہ تقریباً باقی نہیں رہی۔یہ بہیدا کا درخت رتنا گیری کی پہاڑیوں میں وشو شانتی اسٹوپا اور ایک جاپانی بدھ مندر کے قریب واقع ہے، جہاں نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک سے بھی زائرین آتے ہیں۔ عبادات کے بعد لوگ اس درخت کے پاس جا کر منتیں مانگتے اور سکے لگا جاتے ہیں۔

وہاں تعینات ایک اہلکار کے مطابق خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں یہاں شادی سے متعلق دعائیں مانگنے آتے ہیں۔ماہر ماحولیات ڈاکٹر اوما کانت سنگھ نے اس عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ درخت کے تنے میں سکے ٹھونسنے سے اس کے قدرتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے، جس سے پانی کی روانی متاثر ہوتی ہے اور درخت بتدریج کمزور ہو جاتا ہے۔ وارانسی کی ایک طالبہ آیوشی جیسوال نے بھی اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منت کے نام پر آکسیجن فراہم کرنے والے درخت کو نقصان پہنچانا دانشمندی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ حفاظتی اقدامات کرے، مثلاً رکاوٹیں نصب کی جائیں اور سیاحوں پر ضابطے نافذ کیے جائیں تاکہ درخت محفوظ رہ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…