وہ نوجوان جس نے میوزیم میں موجود ایک لاکھ 20 ہزار ڈالرز کا کیلا کھا لیا

3  مئی‬‮  2023

سیول(این این آئی)جنوبی کوریا میں ایک بھوکا طالب علم فن پارے میں لگا کیلا نکال کر کھا گیا۔ یہ دلچسپ و عجیب واقعہ جنوبی کوریا میں فن پاروں کی ایک نمائش کے دوران پیش آیا۔ جب آرٹ کے طالب علم نوہ ہوئن سو نے ایک ایسا کیلا کھا لیا جو فن پارے کا حصہ تھا۔

کورین میڈیا کے مطابق آرٹسٹ موریزیو کاتیلان کے فن پارے میں ٹیپ سے چپکایا گیا کیلا کھا لینے والے طالب علم کا کہنا تھا کہ اس نے صبح ناشتہ نہیں کیا تھا اور اسے بہت بھوک لگی تھی۔آرٹسٹ موریزیو کاتیلان کے کیلے سے مزین فن پارے کا نام کامیڈیئن ہے، دارالحکومت سیئول کے لیئم میوزیم آف آرٹ میں منعقدہ نمائش میں پیش کیے گئے فن پارے میں ایک پکے ہوئے کیلے کو ٹیپ کی مدد سے دیوار پر چپکایا گیا تھا۔طالب علم نے کیلا کھانے کے بعد اس کے چھلکے کو دوبارہ ٹیپ کی مدد سے دیوار پر چسپاں کر دیا۔ بعد میں میوزیم سٹاف نے چھلکے کو ہٹا کر وہاں نیا کیلا لگا دیا۔ اگرچہ یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہوا، لیکن ایک شخص نے یہ دلچسپ و عجیب منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔اس واقعے کی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں طالبعلم کے دیوار سے کیلا اتارنے پر ایکس کیوز می کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ طالبعلم کیلا چھیل کر کھانا شروع کر دیتا ہے اور کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ پھر وہ کیلے کے چھلکے کو دیوار پر ٹیپ سے چپکا کر اس کے ساتھ پوز کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…