پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

’’انگلینڈ میں قریب المرگ شخص کی انوکھی خواہش ‘‘

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

لندن(این این آئی)انگلینڈ کی ہائی کورٹ آف جسٹس میں قریب المرگ مریض 67 سالہ نوئیل کانوے کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے جنھوں نے کورٹ سے استداعا کی ہے کہ انھیں اپنی موت کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نوئیل کانوے کو موٹر نیورون کا مرض لاحق ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ

مزید طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹرز کو انھیں جان لیوا انجیکشن لگانے کی اجازت دے دی جائے۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو صحیح وقت پر الوداع کہہ دیں، نہ کہ نہایت کرب کی حالت میں جب وہ جسمانی اور ذہنی طور پر شدید تکلیف میں ہوں۔موجودہ قوانین کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر جو نوئیل کانوے کو مرنے میں مدد کرے گا اسے 14 سال تک جیل کی سزا ہوگی۔نوئیل کانوے نے کہا کہ میں اپاہج ہو جاؤں گا اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ اور ایسے زندگی گزارنے میرے لیے جہنم سے کم نہیں اور میں ایسے نہیں رہنا چاہتا۔نوئیل کانوے اپنی بیماری سے قبل ایک کالج میں استاد تھے اور جسمانی طور پر تندرست تھے لیکن موٹر نیورن کے مرض کی وجہ سے ان کی جسم کے پٹھے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔اب مرض اس قدر پھیل چکا ہے کہ وہ چل پھر نہیں سکتے اور سانس لینے کے لیے بھی ان کو وینٹیلیٹر کا سہارا لینے پڑتا ہے۔بیماری کی وجہ سے نوئیل کانوے مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت نہیں جا سکتے لیکن ان کے وکلا کہتے ہیں کہ وہ اپنی موت کا وقت متعین کرنے کا حق چاہتے ہیں جب تک ان کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نوئیل کانوے کو اس مہم کے لیے نجی تنظیم ‘ڈگنٹی ان ڈائنگ’ کی حمایت حاصل ہے۔تین سال قبل انگلینڈ کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جج قوانین کی ترجمانی کر سکتے ہیں لیکن ان قوانین کو بدلنے کی ذمیداری پارلیمان پر ہے کہ وہ اس کو تبدیل کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔سال 2015 میں پارلیمان کے ممبرز نے انگلینڈ اور ویلز میں موت کے لیے مدد دینے کی تجویز کو ووٹنگ کر کے رد کر دیا تھا۔اس قانون کی حمایت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس سے معاشرے کے غریب اور غیر محفوظ طبقے کو استحصال سے بچنے کی سہولت ملتی ہے۔اس کیس کا فیصلہ چار دن میں متوقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…