بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

’’انگلینڈ میں قریب المرگ شخص کی انوکھی خواہش ‘‘

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

لندن(این این آئی)انگلینڈ کی ہائی کورٹ آف جسٹس میں قریب المرگ مریض 67 سالہ نوئیل کانوے کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے جنھوں نے کورٹ سے استداعا کی ہے کہ انھیں اپنی موت کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نوئیل کانوے کو موٹر نیورون کا مرض لاحق ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ

مزید طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹرز کو انھیں جان لیوا انجیکشن لگانے کی اجازت دے دی جائے۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو صحیح وقت پر الوداع کہہ دیں، نہ کہ نہایت کرب کی حالت میں جب وہ جسمانی اور ذہنی طور پر شدید تکلیف میں ہوں۔موجودہ قوانین کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر جو نوئیل کانوے کو مرنے میں مدد کرے گا اسے 14 سال تک جیل کی سزا ہوگی۔نوئیل کانوے نے کہا کہ میں اپاہج ہو جاؤں گا اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ اور ایسے زندگی گزارنے میرے لیے جہنم سے کم نہیں اور میں ایسے نہیں رہنا چاہتا۔نوئیل کانوے اپنی بیماری سے قبل ایک کالج میں استاد تھے اور جسمانی طور پر تندرست تھے لیکن موٹر نیورن کے مرض کی وجہ سے ان کی جسم کے پٹھے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔اب مرض اس قدر پھیل چکا ہے کہ وہ چل پھر نہیں سکتے اور سانس لینے کے لیے بھی ان کو وینٹیلیٹر کا سہارا لینے پڑتا ہے۔بیماری کی وجہ سے نوئیل کانوے مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت نہیں جا سکتے لیکن ان کے وکلا کہتے ہیں کہ وہ اپنی موت کا وقت متعین کرنے کا حق چاہتے ہیں جب تک ان کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نوئیل کانوے کو اس مہم کے لیے نجی تنظیم ‘ڈگنٹی ان ڈائنگ’ کی حمایت حاصل ہے۔تین سال قبل انگلینڈ کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جج قوانین کی ترجمانی کر سکتے ہیں لیکن ان قوانین کو بدلنے کی ذمیداری پارلیمان پر ہے کہ وہ اس کو تبدیل کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔سال 2015 میں پارلیمان کے ممبرز نے انگلینڈ اور ویلز میں موت کے لیے مدد دینے کی تجویز کو ووٹنگ کر کے رد کر دیا تھا۔اس قانون کی حمایت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس سے معاشرے کے غریب اور غیر محفوظ طبقے کو استحصال سے بچنے کی سہولت ملتی ہے۔اس کیس کا فیصلہ چار دن میں متوقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…