اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ہزاروں سال تک معمہ بنے رہنے والے اہرام مصر کی تعمیر کا راز فاش ہو گیا، حیران کن انکشاف

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)آثار قدیمہ کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ اہرام مصر کی تعمیر کی پیچیدہ ترین گتھیوں میں سے ایک کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ سوال تھا کہ قدیم دور میں مصریوں نے اہرام مصر تعمیر کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد وزنی چونا پتھر کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔ نئی تحقیق کے مطابق قاہرہ شہر سے باہر ایسا کرنے کے لیے مصریوں نے خاص اس مقصد کے لیے کشتیاں

تیار کی تھیں جس کی مدد سے ان پتھروں کو ڈھویا جاتا تھا۔ اس نئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چار ہزار قبل، 2550 قبل مسیح میں تعمیر کیے جانے والا کنگ خوفو کا اہرام کیسے تعمیر کیا گیا تھا۔ ماہرین کو ایک عرصے سے اس بات کی آگاہی تھی کہ اہرام کی تعمیر میں استعمال ہونے والے کچھ پتھر گیزا سے آٹھ میل دور تورا کے مقام سے نکالے جاتے تھے جبکہ گرنائیٹ کا پتھر 500 میل دور سے لایا جاتا تھا لیکن اس بات پر محقیقن میں اتفاق نہیں تھا کہ وہ پتھر لاتے کیسے تھے۔لیکن برطانیہ کے چینل فور پر اہرام مصر پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے چار سال قبل پاپیریس کا مخطوطہ، ایک کشتی کا ڈھانچہ اور پانی کی گزر گاہ کی اہرام کے پاس سے دریافت کی، جس سے یہ سمجھنے کے لیے نئی معلومات ملیں کہ مصریوں نے کس طرح اہرام مصر تعمیر کیے تھے۔ماہر آثار قدیمہ پیئر ٹیل جنھوں نے گذشتہ چار سال اس پاپیریس کے مخطوطے کو سمجھنے میں صرف کیے، بتاتے ہیں کہ ‘یہ مخطوطہ غالباً دنیا کا سب سے پرانا مخطوطہ ہے۔’پیئر ٹیل کے مطابق اسے لکھنے والے شخص کا نام میریر تھا اور وہ 40 ملاحوں کے گروہ کا سربراہ تھا جن کا کام دریائے نیل کے ساتھ بنائی گئی پانی کی گزر گاہوں سے پتھر ڈھو کر لائے جائیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دو دہائی کے عرصے میں تقریباً 23 لاکھ پتھر اس طرح سے اہرام کے مقام

تعمیر پر لائے گئے تھے۔ 30 سال سے مصر میں کھدائی اور تحقیق کے ماہر مارک لہنر کا کہنا ہے کہ ‘ہم نے اس علاقے اور گذرگاہ کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے پتھر گیزا کے میدان پر لائے جاتے تھے۔’

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…