اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’پاکستان کے شہر کراچی سے بھی بڑا برفانی تودہ منظر عام پر ‘‘

datetime 5  اگست‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی ) کراچی سے ڈیڑھ گنا بڑے برفانی تودے کی تصاویر منظرعام پر آگئیں ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جولائی کے شروع میں کراچی سے لگ بھگ ڈیڑھ گنا بڑا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوکر سمندر میں بہنا شروع ہوگیا تھا۔انٹارکٹیکا کے برفانی خطے لارسن سی سے الگ ہونے والے اس برفانی تودے کا رقبہ 5800 اسکوائر کلومیٹر، جبکہ وزن ایک کھرب ٹن تھا

جو 12 جولائی کو برفانی براعظم سے الگ ہوا۔سائنسدانوں کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس برفانی تودے کی علیحدگی اس براعظم کے زمینی حقائق کو بدل کر رکھ دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے کیونکہ اتنے بڑے برفانی تودے کو پہلی بار انٹار کٹیکا سے الگ ہوتے دیکھا گیا۔اس سے قبل 2000 میں اس سے 50 فیصد چھوٹا تودہ روس آئس شیلف سے الگ ہوتے دیکھا گیا تھا۔اس وقت تو اس تودے کی تصاویر سامنے نہیں آسکی تھیں مگر اب دو سیٹلائیٹس کی مدد سے اسے دیکھا گیا ہے، جس میں یہ برفانی تودہ مشرقی انٹارٹیکا میں دیکھا گیا۔یہ تصاویر چونکا دینے والی ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس طرح کا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔اس تودے کو اے 68 کا نام دیا گیا تھا جسے دنیا میں موجود پانچواں سب سے بڑا برفانی تودہ قرار دیا گیا ہے۔ان تصاویر میں اس تودے میں پڑنے والی دراڑوں کو بھی دکھایا گیا ہے اور یہ تودہ جلد مزید چھوٹے تودوں کی شکل میں تقسیم ہوجائے گا۔سائنسدانوں کے مطابق زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ تودہ فاک لینڈ آئی لینڈز کی جانب بڑھے گا اور دو سے تین سال میں مکمل طور پر پگھل جائے گا یا کم از کم متعدد چھوٹے ٹکڑوں کی شکل اختیار کرلے گا۔اگرچہ اتنا بڑا برفانی تودہ حیران کن لگتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق اس سے سمندری سطح نہیں بڑھے گی۔تاہم مستقبل قریب میں اس طرح کا سلسلہ جاری رہا یا انٹار کٹیکا کی برف پگھلتی رہی تو دنیا کے چند بڑے ساحلی شہروں جیسے میامی، نیویارک، ممبئی اور شنگھائی کی بقاکو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…