جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عرب ملک میں میں طلاق کا لرزہ خیز رحجان، 4 منٹ میں ایک طلاق ہونے لگی

datetime 30  ستمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)مصر میں طلاق کا لرزہ خیز رحجان ہر چار منٹ بعد ایک طلاق واقع ہونے لگی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کے پبلک موبلائزیشن وادارہ شماریات کے زیر اہتمام ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ 20 برسوں کے دوران مصر میں طلاق کے رحجان میں غیرمعمولی حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس رپورٹ میں 1995ء سے 2015ء میں طلاق کے فروغ پذیر رحجان کے اسباب و محرکات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ناخواندہ میاں بیوی میں طلاق کے واقعات خواندہ افراد کی نسبت زیادہ ہیں۔ اسی طرح دیہاتوں میں طلاق کا رحجان شہروں کی نسبت کم ہے۔ پچھلے بیس برسوں کے دوران طلاق کے واقعات میں اتار وچڑھاؤ بھی آتا رہاہے۔ 1996ء سے 1999ء کے دوران طلاق کی شرح فی ہزار 1.2 فی صد رہی۔ 2000ء میں کم ہو کر فی ہزار 1.1 پر آگئی۔ 2015ء میں طلاق کی شرح سنہ 1996ء کی نسبت 83 فی صد اضافے کے ساتھ 2.2 فی ہزار تک جا پہنچی۔ اس طرح ایک سال میں طلاق کے 2 لاکھ واقعات رونما ہوئے۔ ایک گھنٹے میں 22.6 طلاقیں اور 3.8 سیکنڈ میں ایک طلاق واقع ہوتی رہی۔مصرمیں زوجین کے درمیان طلاق کے اسباب پر بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گھریلو تشدد، میاں بیوی میں سے کسی ایک کی بددیانتی، جسمانی ایذا رسانی، گھر کے دیگر افراد اور عزیزو اقارب کا میاں بیوی کے معاملات میں مداخلت کرنا، ناتجربہ کاری، عمروں میں غیرمعمولی فرق جیسے عوامل زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ مردوں میں 20 سے 34 سال کی عمر کے افراد طلاق کی شرح 49.7 فی صد ہے۔جب کہ بیس سے کم عمر کے افراد میں یہ تناسب 0.4 فی صد ہے۔ 35 سے 49 اور 50 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں طلاق کی شرح .50 فی صد ہے۔خواتین میں 20 سے 34 سال کے عمر کی طلاق کی شرح 6.7 فی صد جب کہ 65 سال کی عمر میں شرح طلاق 0.6 فی صد ہے۔پڑھے لکھے نوجوانوں میں طلاق کی شرح 40 فی صد اور تعلیم یافتہ لڑکیوں میں طلاق کی شرح 34 فی صد ہے۔ طلاق دینے والوں میں گریجویٹ، ماسٹر ڈگری کے حامل اور پی ایچ ڈی تک اعلیٰ تعلیم پانے والے سبھی شامل ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…