منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایسا جادوئی لباس جسے پہننے کے بعد کوئی بھی 85برس کا ہو جائے

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

بس ایک بٹن دبانے کی دیر تھی، 34 سالہ ا±گو ڈومنٹ ایک لمحہ میں خود کو 85 برس کا محسوس کرنے لگا اور لمحوں میں خود میں ایسی تبدیلی پر ہکا بکا رہ گیا، مگر ایک بٹن دبانے سے ایسا ہوتا کیوں اور کیسے ہے؟34 سالہ اگو ڈومنٹ میوزمز کا متوالا تھا اور صحت کے اعتبار سے بھی بھلا چنگا تھا۔ مگر ایک خصوصی لباس پہننے اور بس ایک بٹن دبانے پر آنکھوں میں جیسے موتیا اتر آیا اور کانوں میں شوں شوں کی وہ آواز جس کی شکایت فقط عمر رسیدہ افراد ہی کرتے ہیں۔
ڈومنٹ نے منگل کو خود کو لبرٹی سائنس سینٹر کے لیے بطور رضاکار پیش کیا تھا، تاکہ اس پر کمپوٹر کی مدد سے چلنے والے ایکسو سیکلیٹن آزمایا جائے۔ یہ خصوصی آلہ ریموٹ کے ذریعے چلتا ہے اور جوڑوں، بصارت اور سماعت کو اسی سطح پر لے جا کر مشاہدہ کراتا ہے، جیسے برسوں بعد عمر رسیدہ ہونے پر لوگ کرتے ہیں۔ یعنی کئی دہائیوں قبل ہی، آپ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں آپ کس صورت حال سے گزرنے والے ہیں۔
ہیڈفونز کانوں میں بزرگی میں سنائی دینے والی شوں شوں اور چشمہ آنکھوں کی پٹھوں کی کمزوری سے بصارت پر اثرات اور جوڑوں سے جڑے آلات اسی سختی کا احساس دیتے ہیں، جو بڑھاپے میں کوئی شخص محسوس کرتا ہے۔ چالیس پاو¿نڈ یا 18 کلوگرام کا یہ خصوصی لباس ڈومنٹ کو اس لیے بھی دیا گیا ہے کہ وہ عمر بڑھنے پر وزن میں اضافے کے احساس سے بھی شناسا ہو جائیں۔
ڈومنٹ کو یہ لباس پہن کر چلنے کا کہا گیا، تو ان کے منہ سے نکلا، ’واوو‘۔ چند ہی لمحوں میں اس کا دل 81 دھڑکن فی منٹ سے سو دھڑکن فی منٹ پر پہنچ گیا اور یہ سب اس کمپیوٹرائز لباس سے ریموٹ کے ذریعے جڑی مشین پر دکھائی دینے لگا۔
”آپ سے چلنے کو کہا جائے، تو آپ اپنی سوچ کو مرتکز نہیں کر سکتے۔ آپ کا جی چاہتا ہے کہ آپ بس بستر میں پڑے رہیں۔“یہ گینورتھ ایجنگ ایکسپیرینس یا بڑھاپا محسوس کرنا ایک ٹریول شو یا سفری پروگرام ہے، جو گینورتھ فائنانشل نامی انشورنس کمپنی نے تیار کیا ہے، جب کہ اس کے لیے تکنیکی مدد اپلائیڈ مائنڈز نے فراہم کی ہے۔ میوزیم کا دورہ کرنے والے افراد کو یہ لباس پہنچا کر انہیں بڑھاپے کے تجربے اور عمر کے اثرات کے احساس سے گزارتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…