وارسو(نیوزڈیسک) مشرقی یورپی ملک پولینڈ میں دماغی طور پر مردہ قرار دی گئی خاتون نے بچے کو جنم دینے کے بعد دم توڑ دیا۔غیر ملکی میڈیا نے ہسپتال حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کی صحت کے حوالے سے اب کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔پولینڈ کے جنوبی شہر راکلا کے یونیورسٹی ہسپتال کے چلڈرن یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر باربرا کرولک اولینیک نے بتایا کہ دماغی طور پر مردہ بچے کی حاملہ ماں کو زچگی کےلئے 55 دن تک مصنوعی طور پر زندہ رکھا گیا۔41 سالہ خاتون کو گزشتہ سال دماغی کینسر سنگین ہونے کے بعد ہسپتال لایا گیا تھا جہاں انہیں ڈاکٹروں نے دماغی طور پر مردہ قرار دیا۔ڈاکٹر باربرا کرولک اولینیک نے کہا کہ خاتون کے اہلخانہ بچے کو بچانا چاہتے تھے کہ جس کے باعث دماغی مردہ خاتون کو مصنوعی طور پر 55 روز تک زندہ رکھا گیاتاہم جب بچے کی زندگی کو لاحق خطرات بڑھنے لگے تو رواں سال جنوری میں حمل کے 26ویں ہفتے میں اس کی آپریشن کے ذریعے ڈیلیوری کرائی گئی۔انہوںنے کہاکہ بچے کا پیدائش کے وقت وزن صرف ایک کلو گرام تھا، تاہم 3 ماہ کی انتہائی نگہداشت کے بعد اس کا وزن بڑھ کرتین کلو گرام ہوگیا اور اس کی صحت سے متعلق پیچیدگیاں ختم ہوگئیں، جس کے بعد اسے ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا۔
مردہ قرار دی خاتون، مگر یہ کیا ۔۔۔۔؟ چونکا دینے والی خبر آ گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پشاور میں دھماکہ
-
شوگر کے مریضوں کے لیے
-
پی ٹی آئی کو دھچکا ، اہم رہنماء پیپلز پارٹی میں شامل
-
گریڈ ایک سے بائیس تک کے تمام ملازمین اور افسران کیلئے بڑی خوشخبری
-
پی ٹی آئی کے تمام قیدی رہاکرنیکا حکم ، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
موبائل صارفین کیلئے خوشخبری، PTAنے بڑا ریلیف دیدیا
-
سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ اپنےگھر میں گرگئے
-
پاکستان اور سعودی عرب میں ایک ساتھ رمضان المبارک شروع ہونے کا قوی امکان
-
سابق پاکستانی فاسٹ بولر امریکی کرکٹ ٹیم میں شامل
-
اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافر کی فرار ہونے کی کوشش، لیول ٹو سے چھلانگ لگا دی
-
پاکستان میں پہلا روزہ کس تاریخ کو ہوگا؟ڈی جی محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ
-
جیل سے رہا ہوتے ہی بیٹے نے ماں، بیوی اور بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی
-
301تا 400یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی



















































