ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

لندن میں فضائی آلودگی کا اندازہ لگانے کے لیے کبوتروں کا استعمال

datetime 17  مارچ‬‮  2016 |

لندن(نیوز ڈیسک)دنیا کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی ایک عام اور خطرناک مسئلہ بن چکی ہے اس لیے لندن میں اس کی درست پیمائش کے لیے کبوتروں کی پشت پر الیکٹرانک سینسر لگائے گئے ہیں۔ لندن میں فضائی آلودگی کا انداز لگانے کے لیے 10 کبوتروں کو ان کی پشت پر جدید ترین الیکٹرانک سینسر لگا کر چھوڑا گیا ہے جو اگلے چند روز تک شہر کی فضاؤں میں پرواز کرکے آلودہ گیسوں کو نوٹ کریں گے۔ ان میں سے تین کبوتروں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا فوری طور پر متعلقہ علاقے میں آلودگی سے حقیقی وقت میں آگاہ کرے گا جب کہ اس اقدام سے بہت اچھے انداز میں فضائی آلودگی کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ پورے منصوبے کا نام ’’پجن ائیرپیٹرول‘‘ ہے جس کے ذریعے مؤثر انداز میں دنیا کا ایک خوفناک مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے اور اس کے حل کے لیے راہیں برآمد ہوسکیں گی۔ ماہرین کا محتاط اندازہ ہے کہ صرف لندن میں ہی ہرسال فضائی آلودگی اور امراض سے 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح لندن کے لوگوں کو ان کے شہر کی فضائی آلودگی کا اندازہ بھی ہوسکتا ہے۔ لندن کے باشندے @PigeonAir پر اپنا گھر یا مقام ٹویٹ کرکے وہاں موجود فضائی آلودگی کی خبر لے سکیں گے۔
کبوتروں پر ہلکے پھلکے سینسر لگائے گئے ہیں جو ان کی پرواز میں رکاوٹ نہیں ڈالتے۔ اس کے بعد لندن کے مختلف افراد پر آلودگی ناپنے والے 100 سینسر بھی لگانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…