ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ذات پات کی بنا پرانسان کا بٹوارہ کب ہوا؟

datetime 2  مارچ‬‮  2016 |

نیو دہلی(نیوز ڈیسک) آج کے دور میں بھی انسان ماضی کی طرح ذات پات کے چکروں میں جکڑا ہوا ہے۔ لیکن آخر یہ ذات پات کا دور کب وجود میں آیاجب ایک ذات کے انسانوں نے دوسری ذات کے انسانوں کے ساتھ اختلاط ختم کیا؟آخر محققین طویل تحقیق کے بعد اس سوال کا جواب پانے میں کامیاب ہو گئے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے تقریباً 70پشتیں قبل ذا ت پات میں بٹ کر آپس میں اختلاط روک دیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ انڈیا میں موجود آبادی بنیادی طور پر پانچ قسم کی قدیم آبادیوں سے وجود میں آئی ہے۔ یہ قدیم آبادیاں ہزاروں سال قبل آپس میں آزادانہ طور پر میل ملاپ اور جنسی اختلاط کرتی تھیں۔ پس بعد از ان قدیم آبادیوں کے انسان نے خود کو اپنے قبائل تک محدود کر لیا اور ذاتوں میں بٹنے لگے اس سلسلے کے شروع ہونے کے بعد عوام نے آپس شادیاں اور جنسی اختلاط کرنا روک دیا۔حال ہی میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ اور انسانی جین پر کام کرنے والے ماہرین کی جانب سے مذکورہ بالا انسانی تاریخ کی تصدیق کی گئی ہے۔مغربی بنگال کے شہرکلیانی میں بائیو میڈیکل جینو مکس کے قومی ادارے (این آئی بی ایم جی)کے محققین کی جانب سے ریسرچ کے دوران غیر متعلقہ ہندوستانیوں کی 20آبادیوں سے تعلق رکھنے والے 367افراد کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد میں سے بیشتر کا تعلق بھارت کے مختلف حصوں وسطی ، شمال مشرقی اور خصوصا بڑے قبائلی علاقوں سے تھا۔ علا وہ ازیں ان میں انڈمان اور نیکوبار قبیلے کے افراد بھی شامل تھے۔جینیاتی تجزیے کے نتائج سے یہ واضح ہواکہ موجودہ بھارتی آبادی درحقیقت چار قدیم آبادیوں کے آپس میں اختلاط سے وجود میں آئی ہے۔(این آئی بی ایم جی )کے ڈائریکٹر اور مذکورہ تحقیق کے سربراہ پارت مجومدار نے بتایا کہ ان قدیم آبادیوں کا تعلق شمالی بھارت، جنوبی بھارت، آسٹرو ایشیائی اور تبت برمن سے تھا۔جبکہ انڈمان اور نیکوبار قبائل کا آغاز بحرالکاہل کے علاقے میں ہوا اور یہ دیگر آبادیوں سے مکمل طور پرالگ ہیں۔ محققین نے مذکورہ تحقیق کے انڈیا سے حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ وسطی اور مغربی ایشیا ، چین اور اس ملحقہ علاقے کے افراد کے نمونوں کے ساتھ کیا گیا۔تحقیق سے واضح ہوا ان قدیم آبادیوں کے درمیان آپس کا میل ملاپ تقریباً 70پشتیں قبل اچانک بند ہوا جو تقریباً آج کے دور سے1,575سال پہلے چھٹی صدی عیسویں کا دور بنتا ہے۔مجومدار نے بتایا کہ انھوں نے اس عمل کو سمجھنے کیلئے وقت کی تاریخ پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا اتفاقاً اس دور میں ہندوستان پر گپتا سلطنت کی حکومت قائم تھی۔انھوں نے بتایا کہ اس دور کے حوالے سے اگر غور کیا جائے تو ذات پات کا نظام اس کا استحکام اور بالا دستی صحفیوں منظوری اور حکمرانوں کے ان اصولوں کو نافذ کرنے کے زریعے اسے مضبوط ہوتے دیکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…