ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

تیس برس میں دنیا کی نصف آبادی کی ’نظر خراب‘ ہو جائے گی

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیو ز ڈیسک)آئندہ تیس برسوں میں دنیا کی نصف آبادی کی دور کی نظر خراب ہو جائے گی۔ تقریباً 5 ارب لوگ 2050تک زیادہ دور تک نہیں دیکھ پائیں گے۔2000کے مقابلے میں 2050میں دور کی نظر کی کمی سےمستقل اندھے پن میں سات گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔برطانوی میڈیا نےایک سائنسی جریدےکے حوالے سے بتایا ہے کہ دور کی نظر کی خرابی مستقل اندھے پن کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔ماہرین کے نزدیک دنیا بھر میں لوگوں کی دور کی نظر کی خرابی میں اضافے اور اس سے مستقل اندھے ہونے کی وجوہات میں دن میں روشنی کی کمی اور کمپوٹر، ٹی وی یا موبائل فون کی اسکرین پرزیادہ وقت صرف کرنا شامل ہے۔ بچوں کو آوٹ ڈور کےلئے کم وقت دیا جارہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ طرز زندگی نے دنیا میں اندھے پن کی شرح میں اضافہ کیا ہے،بچے قدرتی روشنی میں زیادہ وقت نہیں گزارتےاور زیادہ وقت کتابیں پڑھنے یا اسکرین پر نظرے جمائے رکھنے سے یہ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کی نظر باقاعدگی سے چیک کرائیں۔ انہیں باہر کھیلنے کےلئے بھیجیںاور مطالعہ اور الیکٹرانک آلات کے استعمال کو محدود کریں۔دور کی نظر کم ہونے کو طبی اصطلاح میں’مائی اوپیا‘ کہا جاتا ہے اس میں کچھ فاصلے سے اشیاءواضح دکھائی نہیں دیتیںاور جب یہ مسئلہ کسی کوایک بار ہو جائے تو اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا ہے کیونکہ روشنی ’ریٹینا‘تک پہنچ نہیں پاتی جو آنکھ کے پیچھے ہوتا ہے۔اس کے بجائے کرنیں ریٹینا کے سامنے مرکوز رہتی ہیں جس سے دور کی اشیاءدھندلاپن ظاہر کرنے لگتی ہیں۔دور کی کم نظری پیدائشی بھی ہو سکتی ہیں تاہم عموماً بچپن سے شروع ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ اس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسے بالغ افراد جن میں ماضی میں کبھی اس کے اثرات نہیں تھے ان میں بھی یہ بیماری سامنے ا?سکتی ہےجسے گلاسز،کنٹیکٹ لینز اور سرجری سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔اگر دور کی نظر زیادہ شدید اختیار کر جائے تو آنکھ کے مسائل کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس وقت دنیا میں تقریباً دو ارب افراد کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ان کی دور کی نظر خراب ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…