ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

لاہور سفاری زو پارک میں تین شیرنیوں کے ہاں تین ،تین بچوں کی پیدائش،شیروں کی تعداد 23ہوگئی

datetime 19  فروری‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک)ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات و پارکس پنجاب خالد ایاز خان نے کہا ہے کہ لاہور سفاری زو پارک میں تین شیرنیوں نے تین، تین بچوں کو جنم دیا ہے ،شیرنیوں کے بچوں کی پیدائش سے لاہور سفاری زو پارک میں شیروں کی تعداد23ہوگئی ہے ۔انہوں نے یہ بات یہاں اپنے دفتر میں آنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو جنم دینے والی شیرنیوں میں سے ایک ماں (کالو)جبکہ دوسری دو شیرنیاں (کاجل اور رانی)اس کی بیٹیاں ہےں۔انہوں نے بتایا کہ کاجل اور رانی کی پیدائش بھی لاہور سفاری زو پارک میں ہی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کا سٹاف بچوں کو جنم دینے والی شیرنیوں کی بہترین طریقے سے ہمہ وقت نگرانی کر رہا ہے۔ شےرنیوںکے بچے پوری طرح صحت مند اور تندرست ہےں اور شیرنیاں اپنے بچوں کی درست طریقے سے دیکھ بھال کررہی ہےں۔خالد ایاز خان نے کہا کہ لاہور چڑیا گھر میں اس وقت 12شیر موجود ہےںجبکہ بہاولپور زو میں 8، ڈیرہ غازی خان میں2، لوئی بھیر میں 3، وہاڑی میں 2 اور کمالیہ وائلڈ لائف پارک میں 2شیر موجود ہےں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف کے زیر انتظام جنگلی حیات کے پارکس اور چڑیا گھروں میں شیروں کی کل تعداد 52تک پہنچ گئی ہے جو قابل ستائش ہے اور اتنی بڑی تعداد میں کسی دوسرے صوبے کے پاس شیر موجود نہیںہےں۔ انہوں نے کہا کہ شیرنیوں کے بچوں کو اگلے ماہ کے آغاز میں شائقین دیکھ پائیں گے۔ ڈی جی جنگلی حیات نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کی ”ایڈاپٹ اے اینیمل “ سکیم کے تحت ان نومولود شیروں کو کوئی بھی ادارہ یا تنظیم گود لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے وائلڈ لائف پارکس ناصرف عوام کی تفریح کا سامان پیدا کررہے ہیں بلکہ اچھے بریڈنگ فارم کا بھی کردار ادا کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…