ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

وائی فائی سگنل سمیت اپنے اندر کتابیں رکھنے والا دلچسپ پتھر

datetime 17  فروری‬‮  2016 |

برلن(نیوز ڈیسک)جرمنی کے میوزیم میں رکھا عجیب و غریب پتھر ڈیڑھ ٹن وزنی ہے لیکن چٹان کا یہ ٹکڑا اصل میں ایک وائی فائی راو¿ٹر ہے جس کے ایک کنارے پر آگ لگائی جائے تو اس سے سگنل خارج ہونے لگتے ہیں اور اس کے اندر یوایس بی ڈرائیو بھی پوشیدہ ہے جب کہ اس میں جان بچانے والی کتابیں بھی موجود ہیں۔ یہ پتھر آرٹ کا ایک نمونہ ہے جسے برلن کے آرٹسٹ نے تیار کیا ہے جس کا نام ”زندہ رہو“ یعنی کیپ الائیو ہے۔ آرٹ کے اس نمونے میں زندہ رہنے کے قدیم اور جدید تصورات کو سمودیا گیا ہے۔ اس سے قبل قدرتی آفات میں بایولائٹ چولہے استعمال ہوتے رہے جو ایک جانب تو کھانا پکانے اور دوسری جانب اسمارٹ فون بھی چارج کرنے کا کام کرتے ہیں۔اس پتھر پر آگ کی گرمی پڑتے ہی یہ حرارت سے بجلی بنانا شروع ہوجاتا ہے اور اس سے وائی فائی سگنل خارج ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ پتھر کے مختلف حصوں پر یوایس بی پورٹ لگی ہیں جس میں موجود فائلیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس پتھر میں کسی مشکل حالات میں زندہ رہنے والے اسباق اور رہنما تحریریں پی ڈی ایف کی صورت میں موجود ہیں۔ اسی طرح جدید مغربی ثقافت کے لحاظ سے تحریریں موجود ہیں، مثلاً ڈرون سے بچنے کے طریقے ، تنہا خواتین کے زندگی گزارنے کے طریقے اور دیگر مضامین موجود ہیں۔اس پتھر کے خالق نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ 100 سال تک یہ شے کارآمد رہے لیکن عملاً یہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ ایک صدی بعد اسمارٹ فون کیسے ہوں گے اور کس طرح کی فائلیں استعمال کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…