جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

یہ بریف کیس ہر وقت امریکی صدر کے ساتھ کیوں رہتاہے ؟ حقیقت جانئے

datetime 15  فروری‬‮  2016 |

لاہورر( نیوز ڈیسک)امریکہ اور اس کے اتحادی اکثر پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی صدر ہر وقت اپنے ساتھ ایک سیاہ رنگ کا بریف کیس رکھتے ہیں جس میں امریکہ کے نیوکلیئر بمبوں تک رسائی موجود ہوتی ہے اور اس کے ذریعے پوری دنیا کو کسی بھی وقت تباہ کیا جاسکتا ہے۔اس بریف کیس کو نیوکلیئر فٹ بال کا نام بھی دیاجاتا ہے جو کہ ہروقت امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے۔امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی سفر کرے،یہ بریف کیس اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ وائیٹ ہاوس میں موجود situationروم سے کونیکٹ ہوکر کسی بھی ملک پر نیوکلیئر حملہ کرسکتا ہے۔اس بریف کیس کو صدر کے ساتھ موجود پانچ میں سے کوئی ایک ملٹری کے سئینر اہلکار نے اٹھا رکھا ہوتا ہے۔اگر امریکی صدر اپنے گھر ہوتو اس بریف کیس کو وائیٹ ہاوس میں خفیہ مقام پررکھا جاتا ہے۔وائیٹ ہاوس ملٹری آفس کے سابق ڈائریکٹر بِل گیولی کا کہنا ہے کہ اس بریف کیس میں 75صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہوتا ہے جس میں نیوکلیئر حملے کی صورت میں جواب دینے کی تفصیلات درج ہیں۔اس کے ساتھ ہی بریف کیس میں ایک ’بلیک ب±ک‘ہوتی ہے جس میں امریکی صدر کے لئے محفوظ مقامات کا بتایا گیاہوتاہے،ایک دس صفحات کا کتابچہ جس میں ایمرجنسی براڈ کاسٹ سسٹم کوچلانے کا طریقہ اور ایک انڈیکس کارڈ ہوتا ہے جس میں کچھ خفیہ کوڈز ہوتے ہیں۔کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ اس بریف کیس میں سے کبھی ایک انٹینا نکلتا بھی دکھائی دیتا ہے جواس جانب اشارہ ہے کہ اس کی کسی مقام کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔امریکی ایئر فورس کے میجر رابرٹ پیٹرسن جو اس بریف کیس کی حفاظت کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اسے متعدد بار کھول کر چیک کرتاتھاتاکہ اس کے ذہن میں یہ بات موجود رہے کہ امریکی صدر کن ممکنات پر غور کرسکتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک بار جب صدر بل کلنٹن وائیٹ ہاوس میں جاگنگ کررہے تھے تو بھی ایک ملٹری کا بندہ اس بریف کیس کو اٹھاکر اس کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔یہ بریف کیس دنیا نے پہلی بار صدر کینیڈی کے دور میں 1962ءمیں دیکھا گیا جب امریکہ کا کیوبا کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…