پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ بریف کیس ہر وقت امریکی صدر کے ساتھ کیوں رہتاہے ؟ حقیقت جانئے

datetime 15  فروری‬‮  2016 |

لاہورر( نیوز ڈیسک)امریکہ اور اس کے اتحادی اکثر پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی صدر ہر وقت اپنے ساتھ ایک سیاہ رنگ کا بریف کیس رکھتے ہیں جس میں امریکہ کے نیوکلیئر بمبوں تک رسائی موجود ہوتی ہے اور اس کے ذریعے پوری دنیا کو کسی بھی وقت تباہ کیا جاسکتا ہے۔اس بریف کیس کو نیوکلیئر فٹ بال کا نام بھی دیاجاتا ہے جو کہ ہروقت امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے۔امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی سفر کرے،یہ بریف کیس اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ وائیٹ ہاوس میں موجود situationروم سے کونیکٹ ہوکر کسی بھی ملک پر نیوکلیئر حملہ کرسکتا ہے۔اس بریف کیس کو صدر کے ساتھ موجود پانچ میں سے کوئی ایک ملٹری کے سئینر اہلکار نے اٹھا رکھا ہوتا ہے۔اگر امریکی صدر اپنے گھر ہوتو اس بریف کیس کو وائیٹ ہاوس میں خفیہ مقام پررکھا جاتا ہے۔وائیٹ ہاوس ملٹری آفس کے سابق ڈائریکٹر بِل گیولی کا کہنا ہے کہ اس بریف کیس میں 75صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہوتا ہے جس میں نیوکلیئر حملے کی صورت میں جواب دینے کی تفصیلات درج ہیں۔اس کے ساتھ ہی بریف کیس میں ایک ’بلیک ب±ک‘ہوتی ہے جس میں امریکی صدر کے لئے محفوظ مقامات کا بتایا گیاہوتاہے،ایک دس صفحات کا کتابچہ جس میں ایمرجنسی براڈ کاسٹ سسٹم کوچلانے کا طریقہ اور ایک انڈیکس کارڈ ہوتا ہے جس میں کچھ خفیہ کوڈز ہوتے ہیں۔کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ اس بریف کیس میں سے کبھی ایک انٹینا نکلتا بھی دکھائی دیتا ہے جواس جانب اشارہ ہے کہ اس کی کسی مقام کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔امریکی ایئر فورس کے میجر رابرٹ پیٹرسن جو اس بریف کیس کی حفاظت کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اسے متعدد بار کھول کر چیک کرتاتھاتاکہ اس کے ذہن میں یہ بات موجود رہے کہ امریکی صدر کن ممکنات پر غور کرسکتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک بار جب صدر بل کلنٹن وائیٹ ہاوس میں جاگنگ کررہے تھے تو بھی ایک ملٹری کا بندہ اس بریف کیس کو اٹھاکر اس کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔یہ بریف کیس دنیا نے پہلی بار صدر کینیڈی کے دور میں 1962ءمیں دیکھا گیا جب امریکہ کا کیوبا کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…