ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

یہ بریف کیس ہر وقت امریکی صدر کے ساتھ کیوں رہتاہے ؟ حقیقت جانئے

datetime 15  فروری‬‮  2016 |

لاہورر( نیوز ڈیسک)امریکہ اور اس کے اتحادی اکثر پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی صدر ہر وقت اپنے ساتھ ایک سیاہ رنگ کا بریف کیس رکھتے ہیں جس میں امریکہ کے نیوکلیئر بمبوں تک رسائی موجود ہوتی ہے اور اس کے ذریعے پوری دنیا کو کسی بھی وقت تباہ کیا جاسکتا ہے۔اس بریف کیس کو نیوکلیئر فٹ بال کا نام بھی دیاجاتا ہے جو کہ ہروقت امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے۔امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی سفر کرے،یہ بریف کیس اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ وائیٹ ہاوس میں موجود situationروم سے کونیکٹ ہوکر کسی بھی ملک پر نیوکلیئر حملہ کرسکتا ہے۔اس بریف کیس کو صدر کے ساتھ موجود پانچ میں سے کوئی ایک ملٹری کے سئینر اہلکار نے اٹھا رکھا ہوتا ہے۔اگر امریکی صدر اپنے گھر ہوتو اس بریف کیس کو وائیٹ ہاوس میں خفیہ مقام پررکھا جاتا ہے۔وائیٹ ہاوس ملٹری آفس کے سابق ڈائریکٹر بِل گیولی کا کہنا ہے کہ اس بریف کیس میں 75صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہوتا ہے جس میں نیوکلیئر حملے کی صورت میں جواب دینے کی تفصیلات درج ہیں۔اس کے ساتھ ہی بریف کیس میں ایک ’بلیک ب±ک‘ہوتی ہے جس میں امریکی صدر کے لئے محفوظ مقامات کا بتایا گیاہوتاہے،ایک دس صفحات کا کتابچہ جس میں ایمرجنسی براڈ کاسٹ سسٹم کوچلانے کا طریقہ اور ایک انڈیکس کارڈ ہوتا ہے جس میں کچھ خفیہ کوڈز ہوتے ہیں۔کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ اس بریف کیس میں سے کبھی ایک انٹینا نکلتا بھی دکھائی دیتا ہے جواس جانب اشارہ ہے کہ اس کی کسی مقام کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔امریکی ایئر فورس کے میجر رابرٹ پیٹرسن جو اس بریف کیس کی حفاظت کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اسے متعدد بار کھول کر چیک کرتاتھاتاکہ اس کے ذہن میں یہ بات موجود رہے کہ امریکی صدر کن ممکنات پر غور کرسکتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک بار جب صدر بل کلنٹن وائیٹ ہاوس میں جاگنگ کررہے تھے تو بھی ایک ملٹری کا بندہ اس بریف کیس کو اٹھاکر اس کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔یہ بریف کیس دنیا نے پہلی بار صدر کینیڈی کے دور میں 1962ءمیں دیکھا گیا جب امریکہ کا کیوبا کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…