ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جرائم نئے تو مجرم بھی چالاک، حیران کن رپورٹ سامنے آ گئی

datetime 14  فروری‬‮  2016 |

سلام آباد (نیوز ڈیسک)جرائم کی دنیا میں حد درجہ جدت دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ اسی ضمن میں آپ کو بتاتے چلیں کہ صومالیہ میں ہوائی جہاز میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں جو دنیا کی سکیورٹی ایجنسیوں اور فضائی مسافروں پر ایک نیا خوف طاری ہو گیا ہے۔ دوہفتے قبل صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے پرواز کرنے والے ایک ہوائی جہاز میں بم دھماکہ ہوا تھا جس سے جہاز میں انسانی قد کے برابر سوراخ ہو گیا تھا اور اس میں سے مبینہ دہشت گرد نیچے گر گیا تھا۔ واقعے کے وقت جہاز کی بلندی 15ہزار فٹ تھی۔ اب اس حوالے سے تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ طیارے میں پھٹنے والا بم انتہائی جدید طریقے سے بنایا گیاتھا۔ یہ بم ایک لیپ ٹاپ میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ اس قدر جدید تھا کہ ایئرپورٹ کے سکینر اس کا پتہ چلانے میں ناکام رہے اور دہشت گرد یہ لیپ ٹاپ لے کر جہاز میں سوار ہو گیا۔ دہشت گردی کے طریقوں میں اس قدر جدت اور ایسے بم کی ایجاد کے انکشاف پر دنیا پریشان ہو گئی ہے جسے ایئرپورٹ کے سکینر بھی نہیں پکڑ سکتے اور اس طرح کے بم لے کر دہشت گرد کسی بھی ایئرپورٹ کی سکیورٹی کو دھوکہ دے سکتے ہیں اور بڑی تباہی کر سکتے ہیں۔برطانوی اخبارکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’دہشت گردی کا شکار ہونے والی فلائٹ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچ گئی۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بم کو اس مقررہ وقت پر ہی پھٹنا تھا، اگر فلائٹ اپنے مقررہ وقت پر پرواز کرتی تو بم پھٹنے کے وقت وہ اپنی مکمل بلندی تک پہنچ چکی ہوتی جہاں دھماکے کی صورت میں اس کا بچنا اور بحفاظت واپس ایئرپورٹ پر اترنا ناممکن ہوتا اور تمام مسافر موت کے منہ میں چلے جاتے، تاخیر کی وجہ سے پرواز ابھی کم بلندی پر ہی تھی کہ بم پھٹ گیا اور پائلٹ طیارے کو واپس ایئرپورٹ پر لانے میں کامیاب ہو گیا۔‘‘دہشت گردی کے واقعے کا شکار ہونے والے جہاز کی کمپنی ’’ڈالو ایئرلائنز‘‘ (Daalo airlines)کے چیف ایگزیکٹو نے تصدیق کی ہے کہ اس پرواز میں بیشتر مسافر وہ تھے جنہیں ترکی کی ایئرلائن کے طیارے میں سوار ہونا تھا لیکن ترک ایئرلائنز کی فلائٹ منسوخ ہونے پر انہیں اس فلائٹ میں ایڈجسٹ کیا گیا جس سے اس پرواز میں بھی تاخیر ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…