ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

فیس بک کا استعمال ترک نہ کرنے کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جوں جوں دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے بے خوابی کامرض بڑھتا جا رہا ہے ۔ابھی حال ہی میں ماہرین کے انکشاف کے مطابق اگر آپ سونے کے لیے لیٹے ہیں مگر فیس بک کے ننھے سرخ نوٹیفکیشن پر کلک کرنے کی بے چینی محسوس ہورہی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو درحقیقت آپ نیند کی کمی کا شکار ہیں۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ناقص نیند بے مقصد فیس بک چیکنگ کی خواہش پیدا کرتی ہے جبکہ یہ مزاج اور تخلیقی صلاحیت کو گھٹاتی ہے۔درحقیقت چند روز پہلے بھی ایک تحقیق میں یہ بات سانے آئی تھی کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال نیند میں مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔اس نئی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیند میں مسائل اور بہت زیادہ سوشل میڈیا سرفنگ کے درمیان تعلق موجود ہے۔مناسب نیند توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے لیے بہت ضروری ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمارا دھیان زیادہ جلدی بھٹک جاتا ہے اور اس کے لیے فیس بک سے زیادہ بہتر کیا چیز ہے؟محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ ذہنی طور پر انتشار کا شکار ہو تو کیا کریں گے؟ یقیناً سہولت موجود ہوئی تو فیس بک کا رخ کریں گے کیونکہ اسے استعمال کرنا بہت آسان ہے۔اس تحقیق کے دوران 76 طالبعلموں پر ایک سمسٹر کے دوران 7 روز تک تجربات کیے گئے اور ان کی ڈیوائسز پر ٹریکنگ سافٹ ویئرز کے ذریعے نظر رکھی گئی۔نتائج سے فیس بک کے بہت زیادہ استعمال، نیند کی کمی، چڑچڑا پن اور الگ تھلگ رہنے کے رجحان میں واضھ تعلق سامنے آیا ہے۔محققین کے مطابق طالبعلموں کی نیند جتنی کم ہوئی اتنا ہی زیادہ فیس بک کا استعمال بڑھا اور یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے وہ ایسی سرگرمیوں کی تلاش کرتے ہیں جس میں ذہنی صلاحیتوں کا استعمال کم سے کم ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص تھکا ہوا ہو تو اس کے لیے عام سرگرمیوں کا حصہ بننا مشکل ہوتا ہے تو ہلکا اور اور آسان چیز کرنے کو عادت بنالینا قابل فہم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…