ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے زندہ افراد کا پتہ لگانے والے روبوٹ لال بیگ تیار

datetime 10  فروری‬‮  2016 |

نیویارک(نیوز ڈیسک)زلزلے کے بعد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے کیونکہ ملبے کے نیچے جانے والے آلات اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ نیچے جا ہی نہیں پاتے لیکن اب اس مشکل کا حل نکال لیا گیا ہے اور امریکی سائنسدانوں نے ایسا روبوٹ تیار کرلیا ہے جس کی شکل بالکل لال بیگ جیسی ہے اور اسے زلزلے کی صورت میں امدادی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق یہ لال بیگ یعنی ننھا روبوٹ کیڑے کی طرح دراڑوں میں سے سکڑ کے گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر اس پر کیمرا لگا دیا جائے تو یہ منہدم ہونے والی عمارتوں میں حفاظتی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی جریدے ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق روبوٹ کے پروٹوٹائپ (ابتدائی بڑے ماڈل) کی جسامت انسانی ہتھیلی جتنی ہے۔تحقیق کے سربراہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا ہے کہ لال بیگ کے بارے میں سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ وہ ایک چوتھائی انچ خالی جگہ سے یوں گزر جاتے ہیں جیسے وہ جگہ ڈیڑھ انچ چوڑی ہواور ایسا وہ اپنی ٹانگیں باہر کی سمت مکمل طور پر پھیلا کر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ کیڑے آزادانہ گھوم رہے ہوتے ہیں تو ان کا قد نصف انچ کے قریب ہوتا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر یہ اپنا جسم اتنا چپٹا کرسکتے ہیں کہ وہ ایک کے اوپر ایک رکھے ہوئے 2 سکّوں کی اونچائی کے برابر ہو جاتا ہے۔لال بیگ روبوٹ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لال بیگ نہ صرف شگافوں اور دراڑوں سے گزر سکتے ہیں بلکہ اپنے وزن سے 900 گنا زیادہ بوجھ بغیر زخمی ہوئے اٹھا سکتے ہیں۔ اس روبوٹ نما آلے کا نام کریم (کنٹرولڈ روبوٹ ود آرٹیکولیٹیڈ میکینزم) رکھا گیا ہے اور یہ اپنے قد سے محض نصف اونچی جگہ سے گزر سکتا ہے جب کہ اس کی کمر پر اصل لال بیگ سے مشابہ پلاسٹک کا بنا ہوا سخت خول چڑھا ہوا ہے۔دیگر ماہرین کا کہنا ہیکہ زلزلہ آنے کی صورت میں امدادی کارکنوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ کیا امدادی کارروائی کےآغاز کے لیے ملبہ محفوظ ہے یا نہیں، جب کہ اس سے بھی بڑی مشکل یہ سامنے آتی ہے کہ موجودہ روبوٹوں کی رسائی ملبے کے اندر تک نہیں ہوتی ہے لیکن اس مشکل کو اس روبوٹ لال بیگ نے حل کردیا ہے اور ان لال بیگ کو بڑی تعداد میں عمارت کے ملبے کی دراڑوں، سوراخوں یا نالیوں میں سے اندر داخل کیا جا سکتا ہے جو نیچے دبے ہوئے زندہ افراد کو نہ صرف ڈھونڈھ سکتا ہے بلکہ امدادی کارکنوں کے راستہ بھی تلاش کرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…