ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

خبردار! سیلفی لینے کا سب سے بڑا نقصان سامنے آگیا ۔

datetime 5  فروری‬‮  2016 |

لندن( نیوز ڈیسک) کوزہ اردو نیوز کیمطابق دانتوں کے ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہےکہ بہت زیادہ سیلفی لینا ، لوگوں میں نفسیاتی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس بہت سے ایسے مریض آ رہے ہیں، جو سیلفی میں نظر آنے والے اپنے ”گھوڑے“ جیسے دانتوں کو ٹھیک کرانا چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے دانت حقیقی زندگی میں بالکل ٹھیک ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر ٹم براڈسٹاک، کلینیکل ڈائریکٹر لندن سمائیل کلینک ، کا کہنا ہے کہ سیلفی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت قریب سے لی جاتی ہے ، اس لیے تصویر کو بگاڑ دیتی ہے۔ ٹم کا کہنا تھا کہ سیلفی میں دانت حقیقی زندگی کی نسبت زیادہ باہر کو نکلے ہوئے یعنی گھوڑے کی طرح کے دکھائی دیتے ہیں ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دانت تصویر کے درمیان میں ہوتے ہیں، اس لیے لوگ دانتوں کو ہی زیادہ بہتر بنانا چاہتے ہیں ۔ نزدیک سے لی گئی سیلفی کسی بھی خرابی کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اور اچھے خاصے لوگوں کو گمراہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
ڈاکٹر ٹم کا کہنا ہے کہ لوگ اُن کے پاس اپنی سیلفی بھیج کر اپنے سامنے کے دودانتوں کو ٹھیک کرنے کے لیے بارے میں مشورہ لیتے ہیں، تاہم جب ”مریض“ خود کلینک کا وزٹ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دانت بالکل ٹھیک اور قدرتی ہیں۔
ڈاکٹر ٹم نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے پانچ سالوں میں ایسے مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جن کے دانت تو ٹھیک ہوتے ہیں مگر وہ سیلفی دیکھ کر اسے خراب سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر ٹم نے مشورہ دیا کہ بہترین سیلفی لینے کےلیے یا تو سیلفی سٹک استعمال کریں یا پھر بازو کو جتنا دور لے جاسکتے ہیں لےجائیں اور زوم کا استعمال سمجھداری سے کریں۔
ڈاکٹر ٹم کا کہنا ہے کہ وہ ہرہفتے دو سے تین مریضوں کو علاج کی بجائے تسلی دے کر واپس بھیجتے ہیں اور اس کے علاوہ ایسے مریضوں کو بہتر سیلفی لینے کے طریقے بھی بتاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…