پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

خبردار! سیلفی لینے کا سب سے بڑا نقصان سامنے آگیا ۔

datetime 5  فروری‬‮  2016 |

لندن( نیوز ڈیسک) کوزہ اردو نیوز کیمطابق دانتوں کے ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہےکہ بہت زیادہ سیلفی لینا ، لوگوں میں نفسیاتی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس بہت سے ایسے مریض آ رہے ہیں، جو سیلفی میں نظر آنے والے اپنے ”گھوڑے“ جیسے دانتوں کو ٹھیک کرانا چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے دانت حقیقی زندگی میں بالکل ٹھیک ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر ٹم براڈسٹاک، کلینیکل ڈائریکٹر لندن سمائیل کلینک ، کا کہنا ہے کہ سیلفی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت قریب سے لی جاتی ہے ، اس لیے تصویر کو بگاڑ دیتی ہے۔ ٹم کا کہنا تھا کہ سیلفی میں دانت حقیقی زندگی کی نسبت زیادہ باہر کو نکلے ہوئے یعنی گھوڑے کی طرح کے دکھائی دیتے ہیں ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دانت تصویر کے درمیان میں ہوتے ہیں، اس لیے لوگ دانتوں کو ہی زیادہ بہتر بنانا چاہتے ہیں ۔ نزدیک سے لی گئی سیلفی کسی بھی خرابی کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اور اچھے خاصے لوگوں کو گمراہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
ڈاکٹر ٹم کا کہنا ہے کہ لوگ اُن کے پاس اپنی سیلفی بھیج کر اپنے سامنے کے دودانتوں کو ٹھیک کرنے کے لیے بارے میں مشورہ لیتے ہیں، تاہم جب ”مریض“ خود کلینک کا وزٹ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دانت بالکل ٹھیک اور قدرتی ہیں۔
ڈاکٹر ٹم نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے پانچ سالوں میں ایسے مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جن کے دانت تو ٹھیک ہوتے ہیں مگر وہ سیلفی دیکھ کر اسے خراب سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر ٹم نے مشورہ دیا کہ بہترین سیلفی لینے کےلیے یا تو سیلفی سٹک استعمال کریں یا پھر بازو کو جتنا دور لے جاسکتے ہیں لےجائیں اور زوم کا استعمال سمجھداری سے کریں۔
ڈاکٹر ٹم کا کہنا ہے کہ وہ ہرہفتے دو سے تین مریضوں کو علاج کی بجائے تسلی دے کر واپس بھیجتے ہیں اور اس کے علاوہ ایسے مریضوں کو بہتر سیلفی لینے کے طریقے بھی بتاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…