ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

خواتین دن میں کم از کم 8 مرتبہ خود پرتنقید کرتی ہیں، سروے

datetime 9  جنوری‬‮  2016 |

لندن(نیوز ڈیسک)برطانوی میگزین اور ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین خود پر سختی کرتے ہوئے اپنے آپ پر تنقید کرتی رہتی ہیں اور ایک دن میں کم ازکم 8 مرتبہ وہ خود پر تنقید کرتی ہیں یا اپنے ذہن میں اس متعلق سوچتی ہیں۔برطانوی میگزین کی جانب سے کیے گئے سروے میں 2000 برطانوی خواتین کو شامل کیا گیا جس کے مطابق 40 فیصد خواتین نے یہ اعتراف کیا کہ وہ صبح دن شروع ہوتے ہی خود کو کوسنا شروع کرتی ہیں۔ سروے کے تحت وزن بڑھنے اور موٹاپے پر خواتین کی خود پر تنقید عام ہے، پھر سیلفی اور تصاویر پر دوستوں کی جانب سے ہونے والی نکتہ چینی اسے مزید بڑھاتی ہے اور اس کا اثر خواتین کے کیریئر، زندگی اور تعلقات پر پڑتا ہے اور وہ خود پر بے یقینی اور بد اعتمادی کی شکار ہوجاتی ہیں۔سروے کے تحت خواتین کی اکثریت بڑھتے ہوئے پیٹ سے پریشان ہوتی ہے اور اس کے علاوہ وہ چاہتی ہیں کہ ہر لباس ان پر جچے اور ان کی تصاویر اچھی آئیں جب کہ خواتین میں یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے لیے پرکشش نہیں رہیں اور اس کا برملا اظہار کرتی رہتی ہیں۔اس سروے کے اہم رکن کا کہنا ہے کہ آج کا دور تصاویر اور ویڈیو کا ہے اور اس جدید کلچر کی وجہ سے خواتین میں خود پر تنقید اور شدت کا ایک رویہ پیدا ہوا ہے لیکن اچھی بات یہ ہےکہ خواتین اور لڑکیاں اسے بہتر بنانے کے لیے محنت کرتی ہیں اور خود پر تنقید کے بعد بھی زیادہ مثبت اور خود اعتماد رہتی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…