پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

زمانہ قدیم کے شادی شدہ مردوں بارے دلچسپ انکشاف

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )جدید دور کا انسان قدیم دور کے انسان کو عقل و فہم اور انسانی اقدار میں خود سے کمتر سمجھتا ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ قدیم دور میں صنفی مساوات آج سے کہیں زیادہ تھی اور اس دور میں خواتین کا حکم چلتا تھا اور اکثر مرد اپنے سسرال کے ہاں رہا کرتے تھے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انسان کی ارتقائی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ ہزاروں سال قبل کے دور میں آج کی نسبت عورتوں کا مقام بہتر تھا۔ اس تحقیق کے مطابق آج کے دور میں بھی جنگلی قبائل کے رہن سہن اور خاندانی ترکیب میں عورتوں کا فیصلہ اتنا ہی اہم سمجھا جاتا ہے جتنا کہ مردوں کا۔ تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی کالج لندن کے اینتھروپولوجسٹ مارک ڈائیبل کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل کے انسانی معاشرے میں خواتین معاشرتی فیصلہ سازی میں اہم مقام رکھتی تھیں اور اس کا ایک نتیجہ یہ بھی تھا کہ انسانی گروہوں میں شامل سب افراد قریبی رشتہ دار نہیں ہوتے تھے۔ خواتین کی سربراہی میں قائم گروہوں میں ان لوگوں کو بھی جگہ مل جاتی تھی کہ جن کا خواتین کے ساتھ قریبی رشتہ نہ ہوتا تھا اور وہ بھی گروہ کی مجموعی زندگی کے فوائد سے بہرہ ور ہوسکتے تھے۔ اس طرز زندگی کا ایک لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مرد اپنی خواتین کے خاندان کے ساتھ رہتے تھے اور ان کی اپنی کوئی آزادانہ حیثیت نہ تھی۔

مارک ڈائیبل کا کہنا ہے کہ جب انسان نے کاشتکاری کا آغاز کیا تو اس کے پاس وسائل جمع ہونا شروع ہوگئے اور مردوں کے پاس اضافی وسائل کی موجودگی نے ہی ان کے غلبے کے دور کا آغاز کیا۔ مردوں کی آزادی اور غلبے کے بعد خاندان کی ہئیت بھی تبدیل ہوگئی کیونکہ مرد اپنے قریبی رشتہ دار مردوں کو اپنے قریب تر رکھتے تھے جبکہ خواتین کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔ جدید دور کے تقریباً تمام معاشروں میں خاندان کا کنٹرول ایک مرد اور اس کے قریبی دیگر مردوں کے پاس ہوتا ہے اور آج کے دور میں اکثر معاشروں میں خواتین مرد کے خاندان کے ساتھ اس کے گھر میں رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…