ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایکواڈور کے جنگلات میں ”چلنے والے درخت“ دریافت

datetime 24  دسمبر‬‮  2015 |

کوئٹو(ویب ڈیسک) ایکواڈور کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت ’سوکریٹا ایکزورہیزا‘ کو دنیا کا پہلا متحرک درخت قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ موسم بدلتے ہی یہ سورج کی جانب بڑھتا ہے اور اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔اگرچہ یہ درخت روزانہ 2 سے 3 سینٹی میٹر تک کھسکتے ہیں لیکن ایک سال میں اپنی جگہ سے 20 فٹ تک ہٹ سکتے ہیں جسے درختوں کی میراتھن کہا جاسکتا ہے۔ اس کی جڑیں درخت کے لیے پیروں کا کام کرتی ہیں اور وہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ سورج کی روشنی کی جانب بڑھنے کے لیے درخت آگے کی جانب بڑھنے کے لیے نئی جڑیں اگاتا ہے اور پرانی جڑیں خشک ہوکر ختم ہوجاتی ہیں اور اس طرح درخت آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح اگر زمین کی زرخیزی ختم ہونے لگتی ہے تب بھی اس کی طویل جڑیں آگے بڑھ کر زمین سے جڑ کو خود کو مضبوط کرلیتی ہیں جب کہ ایسے درخت لاطینی امریکا کے دوسرے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…