ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ہاتھیو ں کے حملے سے بچنے کےلئے عجیب و غریب فوج تیار

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) افریقا کے دیہاتوں میں ہاتھیوں کو فصلوں سے دور رکھنے کے لیے ایک دلچسپ اور سادہ حل تلاش کیا گیا ہے جس میں کھیتوں اور فصلوں کی حدود پر شہد کے چھتے کچھ بلندی پر لٹکائے گئے ہیں جن سے ایک جانب تو شہد حاصل ہوتا ہے تو دوسری جانب فصلوں کو بدمست ہاتھیوں سے بھی محفوظ رکھا جائے گا۔گنا ہو یا مکئی ہاتھی سب کچھ ہڑپ کرجاتے ہیں اور ایک اوسط افریقی ہاتھی روزانہ 400 کلوگرام غلہ کھاتا ہے لیکن ہاتھیوں کو کھیتوں اور فصلوں سے دور رکھنے کے لیے ڈھول بجانے، آگ جلانے اور شور مچانے کے روایتی طریقے بھی بے کار ثابت ہوئے ہیں لیکن بجلی کے تاروں والی باڑ سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جو مہنگی ہونے کی وجہ سے ہرکسان کی پہنچ میں نہیں اور باڑ لگانے سے فصلوں کے مفید جانور بھی دور رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔برطانیہ کی ماہر ڈاکٹر نے کئی سال کی محنت اور ہاتھیوں کے رویوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا ہے کہ ہاتھی شہد کی مکھیوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے شہد کے چھتوں والی باڑیں تیار کی ہیں جنہیں ایک تار سے 10 میٹر کی دوری پر لگایا گیا ہے اور جب ہاتھی ان کے قریب سے گزرتا ہے تو مکھیاں چھتے سے نکل آتی ہیں اور ہاتھی خوفزدہ ہوکر الٹے قدم واپس لوٹ جاتے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے لیے ڈزنی سمیت کئی اداروں کے تعاون کیا ہے لیکن شہد کی فروخت سے غریب کسانوں کو آمدنی کا ایک اور راستہ ملا ہے۔ اس وقت بوٹسوانا، کینیا، موزمبیق، سری لنکا سمیت کئی افریقی ممالک میں شہد کے چھتوں کی باڑ قائم کی گئی ہے۔واضح رہے کہ انسان اور ہاتھی ایک طویل عرصے سے ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں لیکن زرعی زمینوں پر ہاتھی تباہی برپا کرتے رہتے ہیں اور اسی طرح ہاتھی فصلوں پر کام کرنے والے کسانوں کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…