جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پہلے کھانا کھائیں اور پھر چھری کانٹے بھی کھا جائیں

datetime 13  ستمبر‬‮  2015 |

حیدرآباد دکن(نیوز ڈیسک) بھارتی شہری نے ایسے چمچے ، چھریاں اور کانٹے بنائے ہیں جنہیں کھانے کے دوران استعمال کے بعد کھایا بھی جاسکے گا۔غیر ملکی ویب سائیٹ کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے نارائن پیساپتی نے مال مویشیوں کے چارے کے لیے استعمال ہونے والی ایک گھاس کی مدد سے چھری کانٹے بنائے ہیں جو کھانے کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔چینا یا اَرزَن نامی گھاس کے سفوف سے تیار کردہ چھریاں اور چمچ شروع میں خاصے سخت محسوس ہوتے ہیں لیکن کھانا شروع ہونے کے کچھ دیر بعد یہ نرم ہونے لگتے ہیں اور اختتامِ خوراک پر انہیں آسانی کے ساتھ چبا کر کھایا جا سکتا ہے۔چینا یا ارزن سے بنائی گئی یہ کٹلری ناصرف انسانی جسم کے لیے مفید ہے بلکہ یہ ماحول دوست بھی ہیں، اگر اِن کو پھینک بھی دیا جائے تو یہ پلاسٹک کے چھری کانٹوں کی طرح ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔اپنی اس ماحول دوست کٹلری کی تیاری کے بارے میں نارائن پیساپتی کا کہنا ہے کہ ناصرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں اکثر سستے ہوٹلوں میں کھانے کے ساتھ عام طور پر پلاسٹک سے بنے سستے کانٹے، چھری یا چمچ دیے جاتے ہیں جو وہاں پیٹ پوجا کرنے والوں کو جہاں ناگوار گزرتے ہیں وہیں انہیں استعمال کرنا ان کی مجبوری بھی ہوتی ہے۔نارائن پیساپتی نے کہا کہ وہ بھی پلاسٹک کے چھری کانٹوں سے شدید اکتا گیا تھا اور ایک دن اس نے سوچا کہ کوئی بھی عملی طور پر آگے نہیں بڑھ رہا اور اب اْسے خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔ جس کے بعد اس نے مختلف فوڈ آئٹمز پر غور کرنا شروع کیا۔ اس دوران اْس نے دیکھا کہ مال مویشیوں کے چارے کے لیے استعمال ہونے والی ایک گھاس مفید ہوسکتی ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…