جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

جرمنی کے ساحل سے 108 برس پرانا ” بوتل پیغام “ مل گیا

datetime 24  اگست‬‮  2015 |

برلن (نیوز ڈیسک) زمانہ قدیم میں لوگ اپنے پیغامات کو کبوتروں اور بوتل میں ڈال کر متعلقہ افراد تک پہنچاتے تھے لیکن جدید ٹیکنالوجی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ نے اس کی جگہ لے لی ہے تاہم کچھ پیغامات جو بوتلوں کے ذریعے روانہ کیے جاتے تھے اب بھی مل جاتے ہیں ، 1900 میں جارج پارکر کی جانب سے لکھا جانے والا ایک پیغام جرمنی ساحل پر موجوں کے سپرد کیاگیا تھا لیکن شاید وہ اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا اور بالاآخر 108 سال بعد اپریل میں یہ ”بوتل پیغام “ ساحل پر واک کرنیوالی ایک خاتون کے ہاتھ لگ گیا ” خاتون ماریا وینکلر کا کہنا ہے کہ جب میں نے اس بوتل کو توڑا تو اس میں ایک پوسٹ کارڈ موجود تھا اور اس پا تاریخ نہیں لکھی تھی صرف واپسی کا پتہ لکھا تھا اور جرمن ، ڈچ اور انگلش میں ایک پیغام موجود تھا کہ جو اس کا جواب دے گا اسے ایک شیلنگ انعام میں دیاجائیگا ۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…