پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکا میں اب سیلفی کے ذریعے شاپنگ اور رقوم کی ادائیگی کی جائے گی

datetime 21  اگست‬‮  2015 |

کیلیفورنیا(نیوز ڈیسک) دنیا بھر کے موبائل فونز سے روزانہ لاکھوں کروڑوں سیلفیاں لی جاتی ہیں لیکن اب ان سیلفیوں کا ایک بہتر استعمال سامنے آگیا ہے کیونکہ اب انہیں بطور شناخت استعمال کرکے شاپنگ اور دیگر رقوم ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایک امریکی کمپنی نے اسمارٹ فون سیلفی کے ذریعے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کو تجرباتی طور پر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے شاپنگ کی ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی جاسکتی ہے اس سروس کو 25 25سیلفی پے 24 24 کا نام دیا گیا ہے جس میں چہرہ شناخت کرنے والی ( فیس ریکگنیشن) ٹیکنالوجی کے ذریعے شاپنگ کرنا ممکن ہوگا۔ اس نظام کے تحت خریداری کے بعد سیلفی پے ان کے چہرے کی صاف تصویر کھینچے گی جسے بطور شناخت استعمال کیا جائے گا اور اسے اسٹور کے ڈیٹابیس میں موجود تصاویر سے ملایا جائے گا اور اس طرح اسٹور یا شاپنگ سینٹر سے باہر نکلتے ہوئے سیلفی لینا ایک عام بات ہوجائے گی۔کیلیفورنیا میں فرسٹ ٹیک فیڈرل کریڈٹ یونین نے پہلی مرتبہ سیلفی کی آزمائشی تیاری شروع کردی ہے جس میں رقم کی ادائیگی کے لیے فنگرپرنٹس بھی استعمال کی جائے گی۔ اس کی آزمائش ستمبر سے اکتوبر تک جاری رہے گی جس میں 200 افراد جعلی اکاو¿نٹس بناکر سلیفی کو آزمائیں گے جس میں تنہا شخص کی سیلفی استعمال کی جائے گی نا کہ اس کے دوستوں کے ساتھ گنجلک سیلفی کا استعمال کیا جائے گا۔فرسٹ ٹیک کمپنی کے مالک گریگ مچل کہتے ہیں کہ ہمارے صارفین رقم کی سیکیورٹی چاہتے ہیں اور وہ بھی ایک انوکھے انداز میں اور اسی لیے ہم نے سیلفی کے ذریعے رقم کی تصدیق کا نظام بنایا ہے کیونکہ 83 فیصد صارفین نئی ٹیکنالوجی چاہتے ہیں اسی طرح اے بی این ایمر نے بھی 750 کریڈٹ کارڈز کی سیلفی کے ذریعے تصدیق کا ایک تجربہ شروع کیا ہے اس کے لیے سیل فون پر ایک ایپ اتارنی ہوتی ہے اور پھر سیلفی کی تصدیق کے بعد رقم کی ادائیگی ممکن ہوتی ہے۔ امریکی کمپنی کا کہنا ہیکہ اگر سیلفی ادائیگی کا طریقہ عام ہوجائے تو اس سے رقم کا لین دین مزید تیز اور محفوظ ہوجائے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…