جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بچوں کے بال کاٹنے والا انوکھا حجام

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

آئیووا(نیوز ڈیسک) مجھے کتاب پڑھ کرسناو¿ میں تمہارے بال مفت میں کاٹوں گا۔ یہ الفاظ ایک امریکی حجام کورٹنی ہومز کے ہیں جو چومیسکی پارک میں باربر شاپ چلاتے ہیں اور امریکی ریاست ا?ئیووا کے شہر ڈیوبیوکے میں انہوں نے ان بچوں کے بال مفت میں کاٹنے کا فیصلہ کیا ہے جو انہیں کوئی اچھی سی کتاب پڑھ کر سناتے ہیں۔
کورٹنی دو بچوں کے باپ ہیں اور وہ ان بچوں کی مدد کرتےہیں جنہیں پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ان کے پاس جب بچے آتے ہیں تو وہ انہیں کہتے ہیں کہ میز پر رکھی اپنی پسند کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں اور اسے پڑھنا شروع کردیں۔ کتاب پڑھنے میں وہ بچوں کی مدد بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ خود بھی بچوں کے ساتھ کتاب پڑھنے لگتے ہیں۔
شروع میں روزانہ ان کے پاس ایک دو بچے آتے تھے اور اب ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے 20 تک پہنچ چکی ہے جو نہ صرف بال ترشوانے کا انتظار کرتے ہیں بلکہ کتاب پڑھنے کے لیے بھی بے قرار رہتے ہیں۔ کورٹنی اب ایک گروپ کا حصہ ہیں جو بچوں میں کتابوں کا شوق پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس کام کے بعد انہیں بہت سے فلاحی اداروں کی جانب سے تعاون کی پیشکش ہوئی ہے اور اب ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی اس کام میں ان کا ہاتھ بٹارہے ہیں۔ دوسری جانب لوگوں کی بڑی تعداد انہیں بچوں کی کتابیں بھی بھیج رہی ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…