بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

بچوں کے بال کاٹنے والا انوکھا حجام

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

آئیووا(نیوز ڈیسک) مجھے کتاب پڑھ کرسناو¿ میں تمہارے بال مفت میں کاٹوں گا۔ یہ الفاظ ایک امریکی حجام کورٹنی ہومز کے ہیں جو چومیسکی پارک میں باربر شاپ چلاتے ہیں اور امریکی ریاست ا?ئیووا کے شہر ڈیوبیوکے میں انہوں نے ان بچوں کے بال مفت میں کاٹنے کا فیصلہ کیا ہے جو انہیں کوئی اچھی سی کتاب پڑھ کر سناتے ہیں۔
کورٹنی دو بچوں کے باپ ہیں اور وہ ان بچوں کی مدد کرتےہیں جنہیں پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ان کے پاس جب بچے آتے ہیں تو وہ انہیں کہتے ہیں کہ میز پر رکھی اپنی پسند کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں اور اسے پڑھنا شروع کردیں۔ کتاب پڑھنے میں وہ بچوں کی مدد بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ خود بھی بچوں کے ساتھ کتاب پڑھنے لگتے ہیں۔
شروع میں روزانہ ان کے پاس ایک دو بچے آتے تھے اور اب ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے 20 تک پہنچ چکی ہے جو نہ صرف بال ترشوانے کا انتظار کرتے ہیں بلکہ کتاب پڑھنے کے لیے بھی بے قرار رہتے ہیں۔ کورٹنی اب ایک گروپ کا حصہ ہیں جو بچوں میں کتابوں کا شوق پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ اس کام کے بعد انہیں بہت سے فلاحی اداروں کی جانب سے تعاون کی پیشکش ہوئی ہے اور اب ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی اس کام میں ان کا ہاتھ بٹارہے ہیں۔ دوسری جانب لوگوں کی بڑی تعداد انہیں بچوں کی کتابیں بھی بھیج رہی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…