جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ضرورت رشتہ کیلئے معاون 8نکات ،جو کوئی رشتے والی نہیں بتائےگی

datetime 15  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)شادی بیاہ کیلئے خاندان والے ، دوست اور محلے پڑوس کے جان پہچان والے مناسب رشتہ ڈھونڈنے میں مدد تو دے سکتے ہیں تاہم کوئی بھی شخص یہ نہیں بتاتا ہے کہ اگر آپ رشتہ قائم کریں تو ایک عام سے تعلق کو کس طرح ایک شاندار اور محبت بھرے تعلق میں تبدیل کرسکتی ہیں، لیکن یہ ہم آپ کو بتائیں گے کہ کون سے نکات پر عمل درآمد سے آپ اس رشتے کو جسے گھر والوں نے مل کے ڈھونڈا ہوتا ہے، آپ اپنی پسند بھی بنا سکتی ہیں۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ میاں بیوی کے رشتے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس میں دوستی کی گنجائش ہرگز نہیں ہے۔ یہ دوستی کیسے قائم ہوگی۔ یہ آپ کی صوابدید پر ہے۔ اس حوالے سے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ شادی محض آج کے بارے میں سوچنے کا کام ہرگز نہیں ہے۔یہ تعلق ایسا ہونا چاہئے کہ بڑھاپے میں میاں بیوی دونوں محض ایک دوسرے کی شکل سے بھی بیزار نہ ہوجائیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب دونوں کے درمیان روایتی میاں بیوی کے بجائے دوستی کا رشتہ موجود ہو۔شادی میں ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنے ایسے ہی ہے کہ جیسے اپنے سمارٹ فون کو کمپیوٹر سے سنکرونائز کرنا۔ یہ سنکرونائزیشن جس طرح آپ کی انٹرنیٹ اور موبائل سے جڑی دنیا کو آسان کردیتی ہے، اسی طرح شادی میں ذہنی ہم آہنگی میاں بیوی کے تعلق کو مضبوط اور آسان کردیتی ہے۔خواتین کو دیگر پہلوﺅں پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اس جانب بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ جنسی ضروریات اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔اس حوالے سے ایک دوسرے کیلئے جس قدر فراخ دلی سے جگہ بنائی جائے گی، معاملات اسی قدر آسانی سے حل ہوں گے۔ آپ کے انکار سے یہ معاملہ کبھی بھی ختم نہیں ہوگا، اس لئے اسے حقیقت سمجھ کے قبول کرنے کی کوشش کریں۔اگر آپ کا جیون ساتھی کھانے پینے کا شوقین ہے تو ہمیشہ شہر کے اچھے کھانے پینے کے مراکز کے بارے میں معلومات رکھیئے۔اسی طرح اگر آپ ایک خاتون ہیں تو اپنے کھانا پکانے کی مہارتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔اگر آپ کے شوہر کی کوئی ایسی عادت ہے جسے آپ چھڑوانا چاہتی ہیں تو سہولت سے کام لیجیئے۔جھگڑا شور شرابا وہ آخری حربہ ہونا چاہئے جب سب حربے ناکام ہوجائیں اور آپ کرو یا مرو کی صورتحال میں ہوں۔پہلی بار میں ایسے معاملات پر جھگڑا مسائل کو بڑھاتا ہے۔ایک دوسرے کے معاشی مسائل و امور کو سمجھنے کی کوشش کریں۔یاد رکھیں کہ آپ دونوں ایک دوسرے کو اپنی معاشی ضروریات اور صورتحال سے آگاہ رکھیں گے تو ہی دوسروں کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچے رہیں گے۔خود کو والدین بننے کیلئے ذہنی طور پر تیار کریں۔ والدین بن جانا افسانے، کہانی یا ڈرامے میں جس قدر خوش کن احساس معلوم ہوتا ہے، حقیقت اس کے برعکس اور ذمہ داریوں کی ایک نئی دنیا سے روشناس کرواتی ہے،اس لئے خود کو پہلے سے ان ذمہ داریوں کیلئے تیار کریں۔لڑائی جھگڑے کی صورت میں گھبرانے، بوکھلانے، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ کچھ بھی ہمیشہ رہ جانے کیلئے نہیں ہوتا۔ آج آپ کے جیون ساتھی کو غصہ ہے، چند دن بعد وہ اسے بھلا بھی دیں گے تاہم شرط یہ ہے کہ آپ اس موقع پر کس قدر عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…