پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

مچھر کے کاٹنے سے برطانوی خاتون نابینا ہوگئی

datetime 10  اگست‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون مچھر کے کاٹنے سے نابینا ہوگئی ہیں۔ 69سالہ خاتون کیریبین میں چھٹیاں گزار رہی تھیں، جہاں انہیں مچھر نے کاٹ لیا جس کے بعد انہیں چکنگنیا نامی بخار نے آگھیرا جس کے بعد ان کی دائیں آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی۔ اس خبر نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ مچھر کے کاٹنے اور اس کیڑے کے ذریعے آلودہ خون کی منتقلی سے ہونے والی بیماریوں میں نظر کی کمزوری بھی کہیں شامل تو نہیں جس پر ماہرین کی تاحال توجہ ہی نہیں گئی۔ اس مرض کا شکار خاتون کا علاج کرنے والے اور بعد ازاں رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹر ابھیجیت موہت کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ چکنگنیا نامی بخار کے مضر اثرات تھے یا مچھر کی وجہ سے ایسا ہوا، اس بارے میں سوچنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ افراد جو کہ بینائی زائل ہونے کا علاج بروقت کروالیتے ہیں، ان کی بینائی ضائع ہونے سے بچ رہتی ہے۔
خاتون گزشتہ برس جولائی میں کیریبیئن گئی تھیں جہاں انہیں مچھر نے کاٹ لیا جس کے بعد انہیں فلو جیسی علامات پیدا ہوگئی تھیں۔ اس کے علاوہ شدید بخار، سرخ دھبے اور جوڑوں میں درد کی شکایت بھی پیدا ہوگئی تھی۔ خاتون کچھ دن بعد برطانیہ واپس آگئی تھیں جہاں ان کی بیماری ٹھیک ہوگئی تاہم دائیں آنکھ سے بینائی زائل ہونے لگی۔ اس کے تین ہفتے بعد وہ معالج کے پاس گئی ، جہاں اس کی طبی تاریخ معلوم کرنے کے بعد اس کا بلڈ ٹیسٹ کیا گیا جس سے چکنگنیا کا انکشاف ہوا۔ اس کے بعد دیگر ٹیسٹ مکمل ہونے میں مزید چھ ہفتے کا وقت ضائع ہوا جس کے بعد خاتون کے علاج کیلئے سٹیرائڈز دیئے گئے مگر اس وقت تک بینائی فراہم کرنے والے اعصابی خلئے ختم ہوچکے تھے۔ ماہرین کو اگرچہ یقین ہے کہ اس کی وجہ مچھر کے کاٹنے سے یہ مسئلہ پیدا ہوا تاہم پھر بھی وہ دیگر امکانات کا بھی جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس شناخت ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…