جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

”جناتی“ ہاتھوں کا حامل۔ کلیم

datetime 9  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد ( سپیشل رپورٹ ،احمد ارسلان)دنیا میں بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن سے متاثرہ لوگ بیماری کی تکلیف کے ساتھ ساتھ اس بیماری کی وجہ سے ان سے لوگوں کے نامناسب رویوں کی تکلیف بھی برداشت کرتے ہیں ۔ایسے ہی دردبھرے حالات کا سامنا بھارت کے ایک قصبے کا رہائشی 8 سالہ کلیم بھی کر رہا ہے ۔8 سالہ ننھا کلیم اپنی بیماری کا علاج کروانے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کر چکا ہے مگر اس کے اپنے ہی قصبے کا سکول اسے تعلیم کا زیور پہنانے سے انکاری ہے۔ بھارت کے ایک نجی چینل کے مطابق سکول کی انتظامیہ نے کلیم کو سکول سے نکالنے کی وجہ یہ بتائی کے سکول کے باقی بچے اس سے ڈرتے ہیں اور اسے شیطان خیال کرتے ہیں اور اپنے اس خوف کی وجہ کوئی بچہ بھی اس کے نزدیک جانا اور اس کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتا ۔ طبی ماہرین کے مطابق کلیم جس بیماری میں مبتلا ہے اسے طب کی اصطلاح میں Macrodactyly کہا جاتا ہے جس کا مطب ہے جناتی ہاتھ۔جبکہ اس کے اپنے سگے چچا کے مطابق کلیم جب اپنی ماں کے پیٹ میں تھاتواسکی ماں باتھ روم گئی جہاں اس پر شیطانی اثر ہو گیا،اس نے مزید بتایا کہ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں باتھ روم کو شیطان بسیرا پائیں گے۔کلیم کا کہنا تھاکہ دوسرے بچوں کی طرح اس کا بھی دل کرتا کہ وہ بچوں کے ساتھ کھیلے سکول جائے مگر کوئی بھی میرے ساتھ کھینا ہی پسند نہیں کرتا،سب مجھ سے ڈرتے ہیںکہ میں شیطانی صفات رکھتا ہوں ۔کلیم کے والدین جہاں اس کے علاج کے لیے بے پناہ کوششیں کر رہیں ہیں وہیں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ وہاں کے لوگوں کے نظریات میں بھی تبدیلی لائی جائے تاکہ کلیم جیسے اور متاثرہ لوگ عوام کے ناروا رویوں کی بھینٹ نہ چڑھیں ۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…