جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آسٹریا کے کوہ الپس پر مریخ کے مشن کے لیے تجربات

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

ویانا(نیوز ڈیسک)آسٹریا کے کوہ الپس میں سائنس دانوں نے مریخ کے مشن کے لیے تجربات کیے ہیں۔ سطح سمندر سے تین ہزار بلند کونرتل گلیشئر کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ سرخ سیارے کے حالات سے قریبی مماثلت رکھتا ہے۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ مریخ پر تقریباً تیس لاکھ سال پہلے پانی موجود تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ چٹانوں اور یت کے نیچے برف کے گلیشیئر جیسی چیز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ کوہ الپس پر مریخ کے مشن کے لیے تجربات کرنے والے دو ماہرین نے 50 کلو گرام وزنی اسپیس سوٹ پہن کر چٹانوں میں سوراخ کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تجربات کا مقصد ان محسوسات اور مشکلات کا اندازہ لگانا ہے جو مریخ پر خلا بازوں کو پیش آسکتی ہیں۔ آسٹرین اسپیس فورم کا اندازہ ہے کہ خلابازوں کو مریخ پر بھیجنے میں ابھی بیس سے تیس سال اور لگیں گے –



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…