جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

چین کا انوکھا بازار

datetime 5  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )مصروفیات جب حد سے بڑھ جائےں تو پھر کبھی کبھی صورتحال ایسی دلچسپ ہو جاتی ہے کہ شادی جیسے وقت طلب کام بھی کاروبار بن کر رہ جاتے ہیں ۔ ویسے تو چینی ثقافت بڑی مہذب اور دلفریب ہے مگر چین کے دوسرے شہرں سمیت شنگھائی کا شادی بازار چینی لوگوں کی بے پناہ مصروفیت کاعکاس ہے۔چینی لوگوں کے مطابق اب کون اپنے بچوں کے رشتوں کی تلاش میں مارا مارا پھرے ، تو اس کا حل والدین نے یوں نکالا کہ وہ چین کے ان شادی بازاروں میں میں جا کر اپنے بچوں کی سستی تشہیر کرتے ہیں ،مختلف شہروں میں ہر ہفتہ اور اتوار کو پارکوں میں لگنے والے ان بازاروں میں جا کے کاغذ پر شادی کے امیدواروں کی مکمل تفصیلات مثلاََ نام ، عمر، تعلیمی قابلیت اور ملازمت وغیرہ لکھ دی جاتی ہیں۔ایک اشتہار کی قیمت ان بازاروں میں 3.20 امریکی ڈالر ہے جو پانچ ماہ کے لیے کارآمد ہے۔ان بازاروں کو چلانے والے حضرات شادی کی بات چیت کے لیے لڑکے لڑکیوں کا نمبر بھی فراہم کرتے ہیں جس کی فیس انہوں نے 16 امریکی ڈالر مقرر کی ہوئی ہے۔واضح رہے کے یہ کام والدین بچوں کی مرضی کے خلاف کر رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ ان بازاروں کی بدولت ہونے والی شادیوں کی شرح بے حد کم ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…