بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانیہ نے موٹی خواتین سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )برطانوی ادارہ نائس نے موٹاپے سے نمٹنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت خواتین پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کیونکہ موٹی خواتین سے یہ موٹاپا بچوں میں بھی منتقل ہوتا ہے اور موٹاپے کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔نائس نے اس سلسلے میں موٹی ماں کو دبلا بنانے کیلئے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ وہ خواتین جنہیں زیادہ موٹا تصور کیا گیا ، انہیں ماں بننے کے بعد چھ ہفتوں کے آرام کے بعد سخت قسم کے ڈائیٹنگ اور ورزشی منصوبے فراہم کئے جائیں گے جس کے تحت انہیں اپنے وزن میں کمی کیلئے ہفتہ وار اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔یہ پروگرام ان تمام خواتین کیلئے ہوگا جن کا بی ایم آئی 30سے زیادہ پایا جائے گا۔اس پروگرام کا آغاز پیدائش کے چھ ہفتے بعد شیڈول کے تحت ہونے والے ہفتہ وار چیک اپ میں ہوگا۔ اس موقع پر اگر ان کا وزن مقررہ حد سے زیادہ پایا گیا تو ان کیلئے مشکل وقت شروع ہوجائے گا۔بارہ ہفتوں کے وزن گھٹا پروگرام میں ان کی حرکت قلب اور بلڈ پریشر کی کیفیت پر بھی نگاہ رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ یورپ بھر میں برطانیہ موٹاپے کے لحاظ سے بدترین شرح کا حامل ملک ہے ۔تقریبا ایک چوتھائی بالغ افراد اور گیارہ برس کے بچوں میں ہر پانچواں بچہ موٹاپے کا شکار ہے جس کی وجہ سے ان افراد کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں ماہ ہی این ایچ ایس نے والدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو سوڈامشروبات دینا بند کردیں۔یہی نہیں بلکہ ماں کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی گئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ حاملہ خواتین کی غذا میں پانچواں حصہ پھل اور سبزیوں کا شامل کروائیں اور ہفتے میں صرف ایک بار تلی ہوئی مچھلی کھانے کا مشورہ دیں۔نوبت اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ دندان سازوں کی دوکان پر آنے والے مریضوں کو واپس لوٹانا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ دانتوں کے چیک اپ کیلئے مخصوص کرسی میں پورے نہیں سماتے ہیں۔ان افراد کی جانب سے خطوط میں شکایت بھی کی گئی ہے کہ ان کا علاج محض اس خوف کے تحت نہیں کیا گیا کہ کہیں وہ ساڑھے سات ہزار پانڈ مالیت کی کرسی توڑ نہ دیں۔حالانکہ ماہرین کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں بیس سٹون سے زائد وزن کے حامل افراد کی دانتوں کی سرجری نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس طرح ان کی زندگی اور صحت کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…