جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی نوجوان نے ورلڈ گیمنگ انڈسٹری پر جھنڈے گاڑ دیے

datetime 31  جولائی  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)کراچی سے تعلق رکھنے والے سمیل حسن نے بہت کم مدت میں گیمنگ انڈسٹری میں اپنا نام بنالیا ہے۔ گیمنگ انڈسٹری دنیا کی برق رفتاری سے ترقی کرنے والی انڈسٹری ہے جس کا حجم تقریبا 800 ارب روپے ہے۔ اس انڈسٹری میں گیمز سافٹ ویئر کی تیاری، گیموں کی خرید و فروخت اور گیم کھیلنا سبھی شامل ہیں۔ سمیل حسن کا خاندان گذشتہ سال کراچی سے شکاگو منتقل ہوا تو اسے دیگر مشکلات کے ساتھ مالی مسائل کا بھی سامنا تھا لیکن سمیل حسن نے چند ہی ماہ میں اپنے خاندان کو مالی مسائل سے نجات دلادی ہے۔ سمائل حسن ڈوٹا 2گیم کا پلیئر ہے۔ ڈوٹا مخفف ہے ڈیفنس آف دی اینسینٹس ancients 2 کا۔ پانچ پانچ پلیئرز پر مشتمل دو ٹیموں کے درمیان اس پیچیدہ لیکن دلچسپ گیم کا بنیادی مقصد مخالف ٹیم کے بیس base پر قبضہ کرنا ہے۔ امریکا آمد کے کچھ ماہ بعد ہی سمیل نے نارتھ امریکن ان ہاوس لیگ کے لیے کوالیفائی کیا۔ ایول جینیئسس evil geniuses نامی ٹیم کے مینیجر اور ڈوٹا 2 کے پلیئر 26 سالہ چارلی یانگ نے سمیل کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے اسے اپنی ٹیم میں شامل کرلیا۔ گزشتہ فروری میں سمیل کی ٹیم شنگھائی گئی اور ڈوٹا 2 ایشین چیمپئن شپ میں حصہ لیا، جس کی انعامی رقم 12کروڑ روپے سے زائد تھی۔ اس ٹورنامنٹ میں ایول جینیئسس تھرڈ سیڈ تھے لیکن سمیل کی کارکردگی کی بدولت نہ صرف فائنل میں پہنچے بلکہ چینی ٹیم کو شکست دے کر فائنل بھی جیتا۔ اس طرح پروفیشنل گیمر بننے کے ایک ماہ بعد ہی سمیل نے جو رقم کمائی وہ دو کروڑ روپے سے زائدتھی۔ اب سمیل کی ٹیم اگست میں ہونے والے ڈوٹا 2 کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی جس کی انعامی رقم کی مالیت 61کروڑ روپے سے زائد ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…