اسلام آباد(نیوزڈیسک)پرندے، برسوں سے ہوابازی کی صنعت کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ پرندوں کے ساتھ ٹکراؤ کے نیتجے میں طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی صورت میں ہوابازی کی عالمی صنعت کو سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔بہ ظاہر پرندے اور ہوائی جہاز کا کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر جب چھوٹا سا پرندہ محوپرواز طیارے سے ٹکرا کر انجن میں گھس جائے تو اسے شدید نقصان پہنچتا ہے۔ انجن کی مرمت پر کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پرندے اور طیارے کے درمیان تصادم مسافروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔پرندوں کے علاوہ اب شہد کی مکھیاں بھی ہوائی اڈوں کی انتظامیہ کے لیے درد سر بنتی جارہی ہیں۔ گذشتہ دنوں ماسکو کے ونوکوف ایئرپورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں ایک مسافر جہاز پر حملہ آور ہوگئیں۔ یہ جہاز ماسکو سے سینٹ پٹزبرگ جارہا تھا۔ مکھیوں نے جہاز پر اس وقت ہلّہ بولا جب اسے پرواز کے لیے کھینچ کر رن وے پر لے جایا جارہا تھا۔ شہد کی مکھیاں ایئربس 319 کے پروں سے چمٹ گئیں، جب کہ بڑی تعداد نے کھڑکیوں پر بھی ڈیرا جما لیا۔مکھیوں کی یلغار کے بعد انتطامیہ نے فوری طور پر دو ایمبولینس بُلالیں کہ کہیں مکھیاں جہاز کے اندر داخل نہ ہوجائیں۔ ہوائی اڈے کا عملہ ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد مکھیوں کو بھگانے میں کام یاب ہوا۔ اورکوئی ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے جہاز کو اس کی منزل کی جانب روانہ کیا گیا۔یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب شہد کی مکھیاں ہوائی جہاز پر حملہ آور ہوئی ہوں۔ رواں برس اپریل میں امریکی ریاست منیسوٹا کے ہوائی اڈے پر شہد کی مکھیوں نے Allegiant ایئرلائن کے ہوائی جہاز پر یلغار کردی تھی۔ طیارے کی ونڈ اسکرین مکھیوں سے مکمل طور پر ڈھک گئی تھی۔ مکھیاں ہوائی جہاز کے انجنوں میں بھی گھس گئی تھیں۔ انجنوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ایئرلائن کو یہ پرواز منسوخ کرنی پڑی تھی۔امریکا کے جنوب مغربی علاقے میں طیاروں پر شہد کی مکھیوں کی یلغار کے واقعات تواتر سے پیش آرہے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی یہ قسم افریقا سے تعلق رکھتی ہے۔ جارحانہ فطرت اور حملہ آور ہونے کی عادت کی بہ دولت انھیں killer bees بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا ڈنک بہت زہریلا ہوتا ہے۔ اگر کئی مکھیاں بہ یک وقت انسان کو ڈنک مار دیں تو اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق افریقا سے یہ مکھیاں 1990 کی دہائی میں امریکا میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ کھلی فضا میں سفر کرتی ہیں۔ سفر کرتے کرتے جب ملکہ مکھی تھک جائے تو پھر یہ آرام کرنے کے لیے اتر آتی ہیں۔ ہوائی اڈے چوں کہ وسیع و عریض اور درختوں سے عاری ہوتے ہیں، لہٰذا سستانے کے لیے ہوائی جہاز، سامان لادنے والی مشینوں، ٹرمینل اور گیراجوںمیں ٹھہر جاتی ہیں۔ تاہم مکھیوں کا یہ عارضی قیام مسافروں اور ہوائی اڈوں کی انتظامیہ کو پریشانی اور کوفت میں مبتلا کردیتا ہے۔
شہد کی مکھیوں کے طیاروں پربڑھتے ہوئے حملے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تنخواہوں کے حوالے سے سرکاری ملازمین کیلئے ایک اور خوشخبری
-
پاکستان کا المیہ
-
ایرانی ریال کے نئے نرخ سامنے آ گئے
-
علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر
-
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس، ثاقب چدھڑ بارے عدالت کا اہم فیصلہ آگیا
-
عمران خان اور جمائمہ کا تاریخی لندن والا گھر فروخت کے لیے پیش، قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
تولدے گیبریماریم کو پی آئی اے کی قیادت سونپنے کا فیصلہ
-
امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے
-
نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں، کیا گاڑیاں سستی ہوں گی؟
-
پاکستانیوں کے لیے خوشخبری! سعودی عرب نے نیا پیکیج ویزا متعارف کرا دیا
-
100 روپے کی دہی منگوانے پر شوہر کا بیوی پر تشدد، گولی مار دی
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا



















































