ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

امریکی شہری کوسانپ کے ساتھ سیلفی کاشوق۔۔۔۔۔۔جانیئے کیاہوا؟

datetime 27  جولائی  2015 |

سین دیاگو(نیوزڈیسک) سیلفی کا بخار دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا جارہا ہے تاہم بعض اوقات یہ شوق مہنگا بھی پڑجاتا ہے، ایسا ہی معاملہ امریکا میں پیش آیا جہاں ایک شخص کو سانپ کے ساتھ سیلفی ڈیڑھ لاکھ ڈالر میں پڑگئی۔امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کے علاقے سین ڈیاگو میں ایک شخص ٹوڈ فیسلرز سیروتفریح کررہا تھا کہ اس دوران اسے جھاڑیوں میں ایک سانپ نظر آیا جسے اس نے دم کی طرف سے پکڑ کر باہر کھینچ لیا،باہر آنے پر پتا چلا وہ ایک ریٹل اسنیک تھا جس کا شمار انتہائی زہریلے سانپوں میں ہوتا ہے۔ریٹل اسنیک کو دیکھ کر ٹوڈ فیسلرز میں سیلفی لینے کا شوق بیدار ہوا اوروہ جیسے ہی سانپ کے ساتھ سیلفی بنانے لگاتو سانپ نےموقع غنیمت جان کر اس کے بازوپرڈس لیا اور واپس جھاڑیوں میں فرار ہوگیا۔سانپ کے زہر نے تیزی سے اثر دکھانا شروع کیا اورفیسلرز کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا اور وہ درد کی شدت سے بری طرح تڑپنے لگا۔فیسلر کو طبی امداد کے لیئے قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں زہر کے خاتمے کے لئے خصوصی تریاق دیا گیا تاہم زہر کی تاثیر اس قدرزیادہ تھی کہ اس کو متعدد بار انجیکشن لگانے پڑے اور کیلی فورنیا کے دواسپتالوں کا اینٹی وینم انجکشنز یعنی زہر کے تریاق کا اسٹاک ختم ہوگیا۔ صحت یابی کے بعد جب فیسلرز کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے بل دیا گیا گیا تو اس کی آنکھیں ایک بار پھر پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ اس کی سیلفی کے شوق نے اسپتال کا بل لاکھ ڈالر سے زائد بنادیا تھا۔امریکا میں سانپ کے زہر کے خاتمے کیلئے لگایا جانے والا اس انجکشن کی ایک خوراک 2ہزار ڈالر ہوتی ہے اور اسے اسپتال میں 83 ہزار ڈالر کے انجیکشن لگ چکے تھے۔ فیسلرز کے پاس ایک سال سے زائدعرصے سے ایک اورسانپ موجود تھا لیکن وہ اس واقعے سے اس قدر خوفزدہ ہوا کہ اسے بھی جنگل میں لے جاکر آزاد کردیا۔
واضح رہے کہ کیلی فورنیا میں ہر سال سانپوں کے ڈسنے کے تقریباً 100 واقعات پیش آتے ہیں جن میں سے 10 سے 12 صرف سین ڈیاگو کاؤنٹی میں ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…