ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی شہری کی جدہ سے ریاض تک پیدل امن واک تیرہ روز میں مکمل

datetime 25  جولائی  2015 |

جدہ(نیوزڈیسک) ایک پاکستانی شہری کھرل زادہ کسرت رائے نے حال ہی میں جدہ سے ریاض تک اپنی امن واک 13 دنوں میں مکمل کی ہے۔یہ ان کا سعودی عرب میں دوسرا وزٹ تھا، جس کے دوران انہوں نے گیارہ سو کلومیٹر طویل پیدل سفر کیا، جسے انہوں نے محبتِ حرمین شریفین کا عنوان دیا تھا۔سعودی عرب کے باشندوں اور تارکین وطن کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کھرل زادہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کی محبت نے یہ واک شروع کرنے کے لیے ان کی ہمت افزائی کی۔کھرل زادہ نے بتایا کہ حرمین شریفین کی اس واک کا بنیادی مقصد پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا، جس کا مطلب ہے کہ ہم سعودی عرب اور اس کے عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جد سے ریاض تک ان کی اس امن واک کا اہم مقصد یہ تھا کہ امن اور محبت کے پیغام کو پھیلایا جائے اور دنیا کو جتا دیا جائے کہ پاکستانی مکہ اور مدینہ سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تمام پاکستانیوں کا وطن ہے، جو ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کا مشن ہے کہ پاکستان کو امن کی علامت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔کھرل زادہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ کامیاب واک دراصل دنیا کے سامنے دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کا مظاہرہ ہے۔انہوں نے سعودی حکومت اور پاکستانی مشن اور دونوں ملکوں کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے مقصد کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں برہان اللہ اور محمد احمد مبشر کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری واک کے راستے کا بندوبست کیا۔یاد رہے کہ کھرل زادہ اس سے قبل 2013 میں کراچی سے مکہ تک امن واک بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے سات جون 2013 کو کراچی سے اپنی امن واک کا آغاز کیا تھا اور 2 ستمبر کو اردن کی سرحد کے راستے سعودی عرب پہنچے تھے۔اس وقت وہ پاکستان میں 1301 کلومیٹر، ایران میں 2640 کلومیٹر، عراق میں 600 کلومیٹر اور اردن میں 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سعودی عرب پہنچے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…