ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سونے کی چین چوری، بندر پر مقدمے کا مطالبہ

datetime 15  جولائی  2015 |

کانپور(نیوزڈیسک)ہندوستانی ریاست اتر پردیش کے شہر کان پور کی پولیس کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جب ایک خاتون نے اپنی سونے کی چین کی چوری کا مقدمہ ایک بندر پر درج کروانے کا مطالبہ کیا۔آئی بی این کی ایک رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کوسل پوری کی رہائشی خاتون ارمیلا سیکسینا پیر کو مندر جارہی تھیں کہ ایک بندر نے ان کی سونے کی چین چھیننے کی کوشش کی اور وہ چین کا آدھا حصہ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔نذیر آباد تھانے کے اسٹیشن انچارج اخلیش گور نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچی لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ حرکت ایک بندر نے کی تھی تو وہ بغیر کوئی ایکشن لیے واپس آگئی۔اخلیش گور کا کہنا تھا کہ “اگر کوئی فرد چین چراتا تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے، لیکن ہم نہیں جانتے کہ ہم کون سے بندر کے خلاف مقدمہ درج کریں”۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سلسلےمیں میونسپل کارپوریشن سے رابطہ کرکے بندروں کو پکڑنے کے لیے مہم شروع کرنے کا کہا ہے۔واضح رہے کہ ہندو رسم و رواج کے مطابق بندروں کو مقدس اور بھگوان شری رام کی آرمی کا ایک بہادر فوجی مانا جاتا ہے اور ہندوستان میں بندر دیوتا یعنی ہنومان کی پوجا (عبادت)مندروں میں کی جاتی ہے۔ہنومان کے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ ان کی عبادت کرنے سے وہ کسی بھی خوف یا خطرے سے محفوظ رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…