منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

نابینا پولیس اہلکار نے جرائم ختم کر دئیے

datetime 8  جولائی  2015 |

بیجنگ(نیوزڈیسک)کسی علاقے کو جرائم سے پاک کرنا کسی بھی پولیس اہلکار کے لیے کوئی آسان کام نہیں اور اس صورت میں جب وہ نابینا ہو یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے مگر ایک چینی شہری یہ حیرت انگیز کارنامہ بھی سرانجام دینے میں کامیاب رہا ہے۔چینی اخبار پیپلزڈیلی کے مطابق جنوبی چین کے قصبے لانبا سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ پولیس اہلکار پان یونگ 2002 میں آنکھوں کی بیماری کے باعث اپنی بنیائی سے محروم ہوگئے تھے اور وہ اب محض روشنی کا احساس ہی کرسکتے ہیں۔تاہم اس معذوری کے باعث انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور وہ اس قصبے کے واحد پولیس اہلکار کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔پان یونگ کے زیرتحت تین انتظامی گا254133ں اور 13 چھوٹے دیہات آتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر 10 سال یا ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران یہاں کوئی جرم، عوامی تحفظ کے مقدمات یا ٹریفک حادثات رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔یونگ اپنی اس کامیابی کے لیے اپنی اہلیہ ٹا254133 ہونگ ینگ سے ملنے والے تعاون کو اہم قرار دیتے ہیں۔یہ 46 سالہ خاتون مقامی ریلوے اسٹیشن میں ایک سیکیورٹی گارڈ کے فرائض سر انجان دیتی ہیں اور اپنے شوہر کو روزانہ علاقے میں سیکیورٹی نگرانی کے حوالے سے معاونت کرتی ہیں۔ٹا254133 کا کہنا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ کرشمہ اس وجہ سے سرانجام دینے میں کامیاب رہے کیونکہ وہ اکھٹے ہیں۔اگرچہ مقامی افراد پان یونگ کی اس کامیابی کو معجزہ قرار دیتے ہیں تاہم یہ پولیس اہلکار نوعمری سے ہی اس علاقے میں جرائم کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے۔ان کے بقول میرا عہدہ چھوٹا ہے مگر مجھے اپنے پیشے سے محبت ہے اور میری بیوی مجھے کام کا دیوانہ قرار دیتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا اگرچہ میں اب ٹرینوں کو نہیں دیکھ سکتا مگر میں سب کچھ سن ضرور سکتا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ اپنی برادری کی خدمت کرنا ہی میری زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بنیائی سے محروم ہونے کے بعد انہیں محسوس ہوا تھا کہ ان کی زندگی ختم ہوگئی مگر 2004 میں شادی کے بعد اپنی بیوی کی حوصلہ افزائی سے ان کی ہمت دوبارہ زندہ ہوگئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…