منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمر رسیدہ شخص کے تہہ خانے سے ٹینک برآمد

datetime 4  جولائی  2015 |

برلن(نیوزڈیسک )شمالی جرمنی میں پولیس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران استعمال ہونے والا ایک ٹینک قبضے میں لیا ہے جو ایک عمر رسیدہ شخص کے تہہ خانے میں رکھا ہوا تھا۔پینتھر نامی یہ ٹینک ہیکنڈورف کے قصبے میں 78 سال کی عمر کے ایک شخص کے گھر میں تھا۔اس ٹینک کے علاوہ وہاں مختلف طرح کا فوجی سازو سامان بھی تھا جس میں ٹارپیڈو اور طیارہ شکن گن بھی تھی۔جرمی کی ایک ویب سائٹ کے مطابق اس ٹینک اور دیگر فوجی آلات کو گھر سے نکالنا کافی دشوار تھا جس کے لیے فوجیوں کو بلانا پڑا جو آج کل کے جدید ٹینک لے کر وہاں پہنچے۔20 فوجی کم و بیش نو گھنٹے تک کوشش کرتے رہے تب ٹینک کو اس تہہ خانے سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔جس وقت اس انوکھے منظر سے پردہ ہٹ رہا تھا، مقامی لوگ اس گھر کے گاڑی کھڑی کرنے والے راستے کے آخرے سرے پر کھڑے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔قریب کے شہر کیل کے پراسیکیوٹر اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا 78 برس کے بوڑھے شخص کے پاس سے جو فوجی ساز و سامان ملا ہے وہ کہیں جرمنی کے جنگی ہتھیاروں کے کنٹرول کے ایکٹ کی خلاف ورزی تو نہیں۔لیکن اس شخص کے وکیل کا کہنا ہے کہ جو کچھ ملا ہے وہ کسی کام کا نہیں لہذا اس پر پابندی ہونی نہیں چاہیے۔مقامی پراسیکیوٹرز کو برلن میں اپنے ساتھیوں سے خبر ملی تھی کہ بوڑھے شخص کے تہہ خانے میں کس طرح کا سامان ہے۔ ان افراد نے اس سال کے شروع میں نازیوں کے آرٹ کے نمونوں کی چوری کے سلسلے میں اس گھر کی تلاشی لی تھی۔ایسے دکھائی دیتا ہے کہ ٹینک کی اس گھر میں موجودگی مقامی طور پر کوئی راز نہیں تھا۔جرمنی کے میڈیا میں اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ اس علاقے کے رہائشیوں نے ٹینک کے مالک کو 30 سال قبل وہ ٹینک چلاتے دیکھا تھا۔میئر الیگزینڈ آرتھ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 1978 میں جب برفباری نے اس علاقے میں تباہی مچا دی تھی تو یہ شخص ٹینک کو چلاتے دیکھا گیا تھا۔میئر کا کہنا تھا میں نے سمجھا تھا کہ اس بوڑھے شخص کی حرکت معمول سے سے مختلف ہے لیکن اب لگتا ہے کہ بات اس سے کچھ زیادہ تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…