ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کیا آپ کو معلوم ہے ان مر غیوں کی ٹانگیں ایسی کیوں ہیں ؟حقیقت جانئے

datetime 24  جون‬‮  2015 |

ہنوئی(نیوزڈیسک ) شاید آپ میں سے بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ دنیا کی مہنگی ترین مرغیاں ویت نام میں پائی جاتی ہیں، اس پر مستزاد کہ یہ مرغیاں اس قدر بدصورت ہیں کہ آپ شاید انہیں مفت میں لینابھی پسند نہ کریں، تو پھر ان کے مہنگا ہونے کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مرغیوں کا گوشت دنیا بھر میں پائی جانے والی مرغیوں کی دیگر اقسام سے کہیں زیادہ لذیز ہے۔ ایک وقت تھا جب ان مرغیوں کی افزائش نسل صرف ویت نام کے شاہی خاندان کے لیے کی جاتی تھی۔یہ مرغیاں بہت کم انڈے دیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی افزائش نسل انتہائی مشکل ہے اور یہ بہت کم تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ ان مرغیوں کے ایک جوڑے کی قیمت 2لاکھ 58ہزار روپے تک ہوتی ہے۔
یہ مرغیاں صرف ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی کے قریب واقع ضلع خوائی چا میں پائی جاتی ہیں اورصرف ملک کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں ان کا گوشت سپلائی کیا جاتا ہے۔مرغیوں کی اس نسل کا نام ڈونگ تا ہے اور ان مرغیوں کی ٹانگیں انسان کی کلائی کے جتنی موٹی ہوتی ہیں۔ اس نسل کی مرغیاں عموما سفید رنگ کی ہوتی ہیں جبکہ مرغوں کے پر رنگ برنگے۔ایک جوان مرغے کا وزن 6کلوگرام تک ہوتا ہے اور یہ مرغا 8ماہ سے ایک سال کی عمر میں فروخت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس نسل کی مرغیاں موسمی تبدیلی کے حوالے سے انتہائی حساس اور بہت جلد بیمار ہو جاتی ہیں۔ ان مرغیوں کی موٹی ٹانگوں کی وجہ سے ملاپ میں رکاوٹ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ بہت کم انڈے دیتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…