ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ہاتھ سے چنے گئے کنکروں یا پتھروں کی مدد سے محل تعمیر

datetime 21  جون‬‮  2015 |

پیرس ( نیوزڈیسک) پوسٹ مین فرڈی ننڈ پالایس کے تعمیر کردہ عجوبہ محل کو دیکھنے کیلئے ہر سال لاکھوں افراد جنوبی فرانس کے علاقے ہوٹریویز کا رخ کرتے ہیں۔ یہ حیرت انگیز محل مکمل طور پر ہاتھ سے چ±نے گئے کنکروں یا پتھروں کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اسے ‘ٹیمپل آف نیچر’ بھی کہا جاتا ہے اور اس انسانی عجوبے کے لئے اس پوسٹ مین نے 33 سال تک ہزاروں لاکھوں پتھر جمع کئے اور پھر انہیں چونے کے پتھر اور گارے سے جوڑے کر یہ حیرت انگیز قلعہ نما محل تعمیر کر دیا۔ 26 میٹر چوڑے اور 12 میٹر لمبے اس محل میں ستون، راہداریاں اور پ±شتے بھی ہیں۔ یہ محل لوگوں کے لئے 1907ءمیں کھولا گیا اور اس کے بعد سے یہ بیشتر سیاحوں کی پسندیدہ منزل بن گیا۔ تاہم محل کی تعمیر کے بعد فرڈی نے اپنا مزار بھی 78 سال کی عمر میں ایسے ہی پتھروں سے تعمیر کیا جو اس کے محل سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…