منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیا آپ کومعلوم ہے کہ کوکا کولا کی بوتل کی شکل ایسی کیوں ہوتی ہے ؟

datetime 20  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )کوکا کولا کا مشروب دنیا میں جتنی شہرت اور مقبولیت رکھتا ہے اس کی بوتل کا ڈیزائن بھی اتنا ہی مقبول ہے اور کوکا کولا کی مقبولیت میں اس ڈیزائن کا اہم کردار ہے۔
کوکا کولا بوتل کے 100 سال مکمل ہونے پر کمپنی کے وائس پریذیڈنٹ آف انوویشن ڈیوڈ بٹلر نے ایک نئی کتاب Desing to Grow میں کوکا کولا کی بوتل کے شاندار ڈیزائن کی دلچسپ داستان بیان کی ہے۔ انہوں نے بوتل کے خاص ڈیزائن کو ان سات مارکیٹنگ سٹریٹجیز میں سے ایک قرار دیا ہے جو کمپنی کی بے پناہ عالمی کامیابی کا راز ہیں۔
ڈیوڈ بتاتے ہیں کہ جب 1888 میں جارجیا کے بزنس مین آسا گرگز کوکا کولا کے غالب شئیر ہولڈر بن گئے تو انہوں نے کمپنی کو سب سے بڑی مشروب ساز کمپنی بنانے کا عزم کیا، لیکن 1915 ان کی کمپنی مشکلات کی شکار تھی اور انہوں نے ایک قومی مقابلے کا انعقاد کیا جس کا مقصد ایک ایسی بوتل کا ڈیزائن متعارف کروانا تھا کہ جو کسی بھی اور کمپنی جیسا نہ ہو اور جسے اس کی منفرد شکل کی وجہ سے سب سے الگ پہچانا جا سکے۔ اس مقابلے میں شامل روٹ گلاس کمپنی کے شاپ سپروائزر ارل ڈین جب ڈکشنری میں لفظ کوکا اور اس سے ملتے جلتے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے تو انہیں اس لفظ کی وضاحت کے لئے بنائی گئی ایک شکل نظر آئی۔ انہوں نے دیکھا کہ کوکا درخت کے بیج کی شکل بہت منفرد اور دلکش تھی اور انہوں نے اسی شکل کی بوتل بنانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے سال مقابلے میں ان کا ڈیزائن فاتح قرار پایا اور یوں کوکا کولا کی بوتل کا دلکش ڈیزائن وجود میں آگیا۔ بعد کے دور میں کمپنی نے ابتدائی ڈیزائن میں معمولی تبدیلیاں کر کے اسے مزید بہتر بنا دیا۔
یہ ڈیزائن اس قدر مقبول ہوا کہ کوکا کولا کی ساری دنیا میں مقبولیت میں اس کا خصوصی کردار رہا، جبکہ گزشتہ ایک صدی کے دوران سینکڑوں دیگر کمپنیوں نے بھی اس کی نقل کی۔ اب اگر کوئی آپ کو بتائے کہ کوکا کولا کی بوتل کا ڈیزائن نسوانی جسم کو دیکھ کر بنایا گیا، یا کوئی اور ایسی فضول کہانی بتائی جائے تو یاد رکھئے گا کہ اس کی اصل وجہ کوکا پودے کا بیج تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…