ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اچھی یادداشت والے بچے زیادہ بہتر جھوٹ بولتے ہیں

datetime 20  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )تحقیق کے دوران شمالی فلوریڈا، شیفلیڈ اور سٹرلنگ یونیورسٹیز کے محققین نے برطانوی سکولوں کے 114 بچوں پر تجربہ کیا
بچوں کی نفسیات کے امریکی اور برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی یادداشت کے حامل بچے زیادہ بہتر جھوٹ بولتے ہیں۔
یہ بات ایک تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی جس میں چھ سے سات سال عمر کے بچوں کو ایک کھیل کے دوران بیایمانی کرنے اور پھر اس بارے میں جھوٹ بولنے کا موقع دیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ وہ بچے جو جھوٹ بولنے کے معاملے میں بہتر تھے، انھوں نے ہی زبانی یادداشت کے امتحانات میں بھی بہتر کارکردگی دکھائی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معلومات سے کھیلنے کا فن جانتے ہیں اور اس دوران اس میں کچھ ایسی معلومات بھی شامل کر دیتے ہیں جو سچ نہیں ہوتیں۔
تحقیق کے نتائج جرنل آف ایکسپیریمنٹل چائلڈ سائیکولوجی میں شائع کیے گئے ہیں۔
اس تحقیق کے دوران شمالی فلوریڈا، شیفلیڈ اور سٹرلنگ یونیورسٹیز کے محققین نے برطانوی سکولوں کے 114 بچوں پر تجربہ کیا۔
سوال جواب کے ایک کھیل کے دوران خفیہ کیمروں کی مدد سے وہ ان بچوں کی نشاندہی میں کامیاب رہے جنھوں نے بیایمانی کر کے سوال کا جواب دیکھنے کی کوشش کی جبکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا۔
تاہم ایک دلچسپ چیز یہ دیکھنے کو ملی کہ 114 میں سے صرف ایک چوتھائی بچوں نے ہی نقل کرنے کی کوشش کی۔

ہ وہ بچے جو جھوٹ بولنے کے معاملے میں بہتر تھے، انھوں نے ہی زبانی یادداشت کے امتحانات میں بھی بہتر کارکردگی دکھائی تھی
ان ایک چوتھائی بچوں سے بعدازاں کیے جانے والے سوالات سے ماہرین کو بہتر انداز میں جھوٹ بولنے والے بچوں کو تلاش کرنے میں مدد ملی۔
تحقیق کے دوران ماہرین خصوصا یہ جاننے میں دلچسپی لے رہے تھے کہ نقل کرنے والے بچے اپنے عمل کو چھپانے کے لیے کیا جھوٹ گھڑتے ہیں۔
بعدازاں یادداشت کے علیحدہ ٹیسٹ میں بھی انھی بچوں نے بہتر کارکردگی دکھائی جنھوں نے سلیقے سے اپنے جھوٹ کو چھپایا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ بچے الفاظ یاد کرنے کے معاملے میں تو باقی بچوں سے آگے تھے جبکہ تصاویر کے معاملے میں ان کی یادداشت بقیہ بچوں جیسی ہی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ بولنے کے دوران زیادہ تر کام زبانی بات چیت کا ہوتا ہے اور تصاویر کا اس سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر الینا ہوئیکا کا کہنا ہے کہ اگرچہ والدین اپنے جھوٹے بچوں پر فخر نہیں کرتے لیکن کم از کم ان کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ اگر ان کا بچہ جھوٹ بول کر اسے چھپانے پر قادر ہے تو یقینا اس کی یادداشت بہت اچھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب ہم جاننا چاہتے ہیں کہ بچے جھوٹ بولنا سیکھتے کیسے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…