ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں اونٹ کے منہ کے اندرکا حصہ ایسا کیوں ہے ؟

datetime 17  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) اونٹ بہت خوبصورت جانور ہے لیکن جیسے ہی وہ منہ کھولتا ہے اس کی ساری خوبصورتی جاتی رہتی ہے۔ اس کے منہ میں یہ چھوٹی چھوٹی ریشہ نما بافتیں کیوں ہوتی ہیں اور ان کا کام کیا ہے؟
سینٹ لوئس چڑیا گھر کے ڈائریکٹر اینیمل ہیلتھ لوئس پیڈلا کہتے ہیں کہ یہ منہ کے مسے ہوتے ہیں اور اونٹوں میں منہ کے اندر یہ مسے ہونا عام بات ہے۔ یہ اونٹ کے منہ کے اندر مختلف حصوں میں ہو سکتے ہیں، اونٹوں کی بعض اقسام میں یہ اندرونی گال پر ہوتے ہیں اور بعض اقسام میں زبان پر ہوتے ہیں۔ ان مسوں کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں، ان میں سے بعض عضو کی شکل میں ہوتے ہیں اور بعض عصبی یا حسیاتی اوریہ اپنی قسم کے لحاظ سے ہی مختلف کام سرانجام دیتے ہیں۔اونٹوں کی مختلف نسلوں میں ان مسوں کا سائز اور شکل ببھی مختلف ہوتی ہے، زبان پر موجود مسے بہت چھوٹے جبکہ اندرونی گال کے مسے بہت بڑے ہوتے ہیں، جیسا کہ آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں۔ جو مسے عضو کا کام کرتے ہیں یہ سائز میں بڑے اور نوکیلے ہوتے ہیں، ان کا کام زبان اور دیگر منہ کے اعضائ کی معاونت کرنا اور خوراک کو معدے کی طرف لیجانا ہوتا ہے۔ان مسوں کے بغیر اونٹ کے لیے درختوں کی شاخوں سے براہ راست پتے توڑنااور معدے میں لیجانا ناممکن ہوتا ہے۔ لوئس پیڈلا کا کہنا ہے کہ اونٹوں کے منہ میں ان مسوں کو دیکھ کر حیران ہونے اور کراہت محسوس کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ انسان کے منہ میں بھی درجنوں چھوٹے چھوٹے مسے ہوتے ہیں خصوصاً زبان پر، لیکن ان کا سائز اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ وہ دکھائی نہیں دیتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…